Al-Risala · July 2004 · page 63

35 hurt in mosque blast in Maharashtra

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۴، صفحہ ۶۳

خاتون نے میری نقل و حرکت کو دیکھ کر اپنی بیٹی سے کہا— یہ بڑھاپے کی اس عمر میں بھی کتنے پھرتیلے ہیں:

حدیث میں آتا ہے کہ نظر لگنا برحق ہے (العین حق) نظر لگنے کے لیے یہ ضروری نہیں کہ آدمی نے بری نیت سے ایسا کہا ہو۔ مخلص آدمی کی بھی نظر لگ سکتی ہے۔ اس لیے صحیح طریقہ یہ ہے کہ کہنے والا جب اس قسم کا کوئی جملہ کہے تو وہ اس کے ساتھ ماشاء اللہ یا اس مفہوم کا کوئی اور جملہ ضرور شامل کرے۔ بغیر اس اضافہ کے اگر کوئی جملہ بولا جائے تو اُس سے نظر لگنے کا امکان باقی رہے گا۔ نظر اصلاً حاسدانہ جملہ پر لگتی ہے۔ تاہم اگر کوئی شخص اندر سے حاسد نہ ہو اور وہ ایسا جملہ بولے جو بظاہر حاسدانہ ہو تب بھی اس کا امکان رہے گا کہ اُس کی نظر لگ جائے۔

ایک جدید تعلیم یافتہ مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ اب مسلمانوں میں کافی تبدیلی آئی ہے۔ اب ان کے اندر تشدد کا مزاج ختم ہو رہا ہے اور اب وہ امن کی باتیں کرنے لگے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ بات صحیح ہے مگر اسلامی نقطہ نظر سے وہ بہت زیادہ اہم نہیں ۔ اس لئے کہ اسلام کے نزدیک اُس امن پسندی کی اہمیت ہے جس کو ایک اصولی موقف (principled behaviour) کے طور پر اختیار کیا جائے ۔ جو موقف حالات کے دباؤ کے تحت پیدا ہو وہ ابن الوقتی (expediency) ہے۔ ایسی روش سے مسلمانوں کو مادی فائدہ تو ہو سکتا ہے مگر اس کی کوئی اسلامی قدر و قیمت نہیں۔ اس معاملہ کی ایک مثال یہ ہے کہ جماعت اسلامی کے لوگ آج کل امن کی باتیں کرنے لگے ہیں۔ مثال کے طور پر انگریزی ہفت روزہ ریڈینِس (۴ اکتوبر ۲۰۰۳) میں موجودہ امیر جماعت کی ایک تقریر چھپی ہے۔ اس تقریر میں وہ کہتے ہیں کہ انتقامی طرز کی ذہنیت اور بندوق اور تشدد مسلم امت کا کوئی مسئلہ حل کرنے والی نہیں:

‹ Previous page Next page › Contents of July 2004 All issues

Printed page