35 hurt in mosque blast in Maharashtra
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۴، صفحہ ۶۴
یہ ایک ادھوری بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پچھلے پچاس سال سے جماعت اسلامی ان تمام متشددانہ واقعات کو جہاد بتاتی رہی ہے جو مختلف علاقوں کے مسلمان اسلام کے نام پر کر رہے ہیں۔ جماعت اسلامی کا نام نہاد میڈیا (بشمول ریڈینس) ان تمام واقعات کی تبریر(justification) میں مشغول رہا ہے۔ اب اگر جماعت اسلامی (یا اس طرح کے دوسرے لوگ) امن کا کریڈٹ لینا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے انہیں یہ اعلان کرنا پڑے گا کہ لمبے مدت سے وہ جس چیز کو جہاد بتاتے رہے وہ جہاد نہیں تھا بلکہ وہ فساد تھا۔ جب تک وہ اپنی پچھلی غلطی کا کھلا اعتراف نہ کریں انہیں امن پسندی کا کریڈٹ ملنے والا نہیں۔ اس معاملہ میں اپنی غلطی کا اعتراف کئے بغیر خاموشی سے اپنی پالیسی بدلنا اور امن کی باتیں کرنا قرآن کی اس آیت کا مصداق ہے: يحبون ان يحمدوا بما لم يفعلوا۔ یعنی وہ ایسی چیز کا کریڈٹ لینا چاہتے ہیں جس کے وہ مستحق نہیں۔
۲۳ نومبر کو ۲ بجے ہماری گاڑی سیوا گرام ریلوے اسٹیشن پر پہنچی۔ یہاں پلیٹ فارم پر مس کالرا اور ڈاکٹر جوزف موجود تھے۔ مس کالرا میکسکو سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان سے میں نے ان کا پورا نام پوچھا تو انھوں نے ایک کاغذ پر اپنا نام لکھ کر دیا جو پوری ایک سطر پر پھیلا ہوا تھا۔ مس کالرا گاندھین فلسفی کے مطالعہ کے لئے یہاں آئی تھیں۔ ان سے میں نے پوچھا کہ آپ میکسکو سے انڈیا آئی ہیں۔ آپ نے دونوں ملکوں میں کیا فرق دیکھا۔ انہوں نے کہا کہ بنیادی فرق صرف زبان کا ہے۔ باقی دوسری چیزوں میں دونوں ملکوں میں کافی یکسانیت نظر آتی ہے۔ سیوا گرام کا ریلوے اسٹیشن ایک چھوٹا ریلوے اسٹیشن ہے مگر وہ کافی خوبصورت اور صاف ستھرا نظر آیا۔ ہر طرف ہریالی اور درخت نظر آ رہے تھے۔ غالباً اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں گاندھی سنٹر کی وجہ سے فارنر کافی آتے ہیں۔ اس بنا پر اس کی حیثیت ایک ٹورسٹ سنٹر جیسی ہو گئی ہے۔ اسٹیشن سے نکل کر ہماری گاڑی آگے روانہ ہوئی تو دوبارہ ایک خوبصورت منظر ہمارے سامنے تھا۔ واردھا ضلع میں سیوا گرام واقع ہے۔ یہاں گو پوری کے نام سے ایک خوبصورت گاؤں بسایا گیا ہے۔ صاف ستھری سڑکوں کے کنارے، صاف ستھرے مکانات جگہ جگہ نظر آئے۔ مکان کے چاروں طرف کھلی
‹ Previous page Next page › Contents of July 2004 All issues