Tel. 07152-243585, 240315
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۴، صفحہ ۶۵
زمینیں تھیں جن میں درخت اور پودے اگے ہوئے تھے۔ اس قسم کا گاؤں“ مجھے پہلی بار یہاں دکھائی دیا۔ ہماری گاڑی چلتی ہوئی وہاں پہنچی جہاں وہ ادارہ قائم ہے جس نے اس کانفرنس کا اہتمام کیا تھا۔ اس ادارے کا نام و پتہ یہ ہے:
Institute of Gandhian Studies, Gopuri, 442114 (Wardha)
Tel. 07152-243585, 240315
یہاں مجھے انسٹی ٹیوٹ کے گسٹ ہاؤس (کمرہ نمبر ۱۲) میں ٹھہرایا گیا تھا۔ یہ گسٹ ہاؤس میرے ذوق کے عین مطابق تھا۔ وہ نہایت سادہ اور اسی کے ساتھ نہایت صاف ستھرا تھا۔ وہ اس لحاظ سے بنایا گیا تھا کہ ہوا اور دھوپ پوری طرح ملتی رہے۔ اس کے چاروں طرف پھیلی ہوئی سرسبز دنیا اس کی خصوصیت میں مزید اضافہ کر رہی تھی۔ یہاں کسی قسم کا شور نہ تھا۔ البتہ کبھی کبھی چڑیوں کی آواز قدرتی نغمہ کے طور پر سنائی دیتی تھی۔
۲۳ نومبر کی صبح کے سشن میں مشہور سوشل ریفارمر جسٹس چندر شیکھر دھرم ادھکاری (Justice Chandrashekhar S. Dharmadhikari) کا افتتاحی لکچر تھا۔ انھوں نے اپنی تقریر میں امن اور مذہبی ہم آہنگی کے سوال پر روشنی ڈالی۔
انھوں نے امن کو مذہب کا خلاصہ بتایا۔ تقریر کے بعد اُن سے کھانے کی میز پر مزید گفتگو ہوئی۔ میں نے کہا کہ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ ہندوازم امن کا مذہب ہے اور اسلام جہاد کا مذہب۔ مگر یہ تاثر سرتا سر غلط ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام مکمل طور پر امن کا مذہب ہے۔ میں نے کہا کہ اسلام کا نشانہ یہ ہے کہ لوگ خدا کو پہچانیں۔ لوگوں کے اندر خدا کی معرفت آئے۔ لوگ اس طرح خدا کی عبادت کریں جیسے کہ وہ اُس کو دیکھ رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہی اسلام کا اصل نشانہ ہے۔ اور اس قسم کا نشانہ صرف فکری اور روحانی کوششوں کے ذریعہ حاصل کیا جا سکتا ہے۔ وہ پوری طرح پر امن جدوجہد کا طالب ہے۔ متشددانہ جدوجہد کا اس نشانہ سے کوئی تعلق نہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ متشددانہ طریقہ کار اس قسم کے ربانی مقصد کے حصول میں ایک رکاوٹ ہے،
‹ Previous page Next page › Contents of July 2004 All issues