Tel. 07152-243585, 240315
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۴، صفحہ ۶۶
وہ کسی بھی درجہ میں اُس کے لیے مفید نہیں۔ انہوں نے اس بات کو بہت غور سے سُنا اور اپنی گہری پسندیدگی کا اظہار کیا۔ اُن کو اسلام کے مزید مطالعہ کے لیے ایک انگریزی کتاب بھی دی گئی۔ ۲۳ نومبر کو دو پہر بعد کے سشن میں فلسفہ کے پروفیسر ڈاکٹر ایس اے اپادھیائے کی تقریر تھی۔ وہ ایک معمر آدمی ہیں۔ انھوں نے ہندو فلاسفی کا گہرا مطالعہ کیا ہے۔ ان کی سفید لمبی داڑھی کو دیکھ کر مجھے سرسید کی داڑھی یاد آئی۔ اس قسم کی داڑھی مدن موہن مالویہ کی بھی تھی جو سرسید کے ہم عصر تھے۔ اس پر مشہور مزاحیہ شاعر اکبر الہ آبادی نے اپنا یہ شعر کہا تھا:
ہزار شیخ نے داڑھی بڑھائی سن کی سی مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی ڈاکٹر موصوف نے اپنی تقریر میں جو باتیں کہیں ان کا خلاصہ یہ تھا۔ امن کا راز وحدانیت کے تصور میں ہے۔ میری مراد جذباتی وحدانیت سے ہے نہ کہ جسمانی وحدانیت سے۔ امن صرف اس طرح حاصل کیا جا سکتا ہے کہ دوسرے کی اقدار کو سمجھا جائے اور اس کو مانا جائے۔ Peace lies in ultimate oneness, emotional oneness not physical oneness. It can be achieved by understanding the values of others. پروفیسر اپادھیائے کا کمرہ میرے کمرہ سے ملا ہوا تھا۔ چنانچہ ان سے کئی بار ملاقات ہوئی۔ ایک ملاقات کے دوران میں نے کہا کہ ہندو مفکرین اکثر یہ کہتے ہیں کہ ہندو نظریہ کے مطابق، ادویت واد امن کا سب سے بڑا ذریعہ ہے کیوں کہ اس میں ادوئی بالکل ختم ہو جاتی ہے۔ میں نے کہا کہ ادویت واد کا مطلب یہ ہے کہ خدا اور انسان دونوں ایک ہی حقیقت کے مظاہر ہیں۔ مگر ہم جو سماجی امن چاہتے ہیں اس کا تعلق انسان اور انسان کے درمیان اتحاد سے ہے، نہ کہ خدا اور انسان کے درمیان اتحاد سے۔ ادویت واد کا تصور ایک الہیاتی فلسفہ ہے، اس کا انسانوں کے درمیان امن کے قیام سے کوئی تعلق نہیں۔ انسانوں کے درمیان امن قائم کرنے کے لیے ہمیں انسانی مساوات کا نظریہ درکار ہے، نہ کہ انسان اور خدا کے درمیان یگانگت کا نظریہ۔
۲۳ نومبر کی شام کا کھانا یہاں کے گسٹ ہاؤس میں کھایا گیا۔ کھانا میرے ذوق کے عین مطابق تھا۔ نہایت سادہ اور نہایت صاف ستھرا۔ روغن اور مسالہ سے بالکل پاک اور قرآنی اصطلاح
‹ Previous page Next page › Contents of July 2004 All issues