Al-Risala · July 2004 · page 68

Tel. 07152-243585, 240315

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۴، صفحہ ۶۸

ایک میرے پاس سے خاموشی کے ساتھ گزرتا رہا۔ یہی صبح کی چہل قدمی کا صحیح طریقہ ہے۔ صبح کی چہل قدمی کا لازمی جز ءخاموشی ہے۔ خاموشی کوئی سادہ چیز نہیں۔ مومن کے لیے خاموشی خدا سے ہم کلام ہونے کا لمحہ ہے۔ (یناجی ربہ) فطرت کے مناظر کے ماحول میں آدمی پر یہی لمحات گزرنے چاہئیں۔ ایسے ماحول میں اگر آپ دوسرے لوگوں سے بات کرتے رہیں تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ آپ خدا کی دنیا میں پہنچ کر بھی خدا سے قریب نہ ہو سکے، آپ اب بھی انسانوں ہی سے جڑے ہوئے ہیں، آپ اب بھی انسانوں میں جی رہے ہیں۔ آپ خدا میں جینے والے نہیں بنے۔

۲۳ نومبر کے ٹائمْس آف انڈیا (بمبئی ایڈیشن) میں اس کے پہلے صفحہ پر ایک نمایاں تصویر چھپی ہوئی تھی۔ تصویر میں دکھائی دے رہا تھا کہ ادھیڑ عمر کی ایک برقعہ پوش عورت نے قرآن کی تلاوت کی اور پھر اس کو بند کر کے دونوں ہاتھ اٹھا کر دعا کرنے لگی۔ اس کے پاس بیٹھا ہوا تقریباً چار سال کا ایک بچہ مخصوص انداز میں اس کو دیکھ رہا ہے۔ اس تصویر کے نیچے یہ کیپشن درج تھا: A child watches his aunt pray during the Ramazan fast at powai on Sunday. اس قسم کی تصویریں مثلاً قوالی کی محفلیں، عید میلاد النبی کا جلوس، تعزیہ کا جلوس وغیرہ اکثر میڈیا میں آتی رہتی ہیں۔ میں نے سوچا کہ قرآن یا دعا کی اسپرٹ کبھی میڈیا میں نہیں آتی۔ البتہ کچھ ظاہری چیزیں ضرور اس میں بار بار نمایاں ہوتی رہتی ہیں۔ ایسا کیوں۔ اس پر غور کرتے ہوئے ایک بات سمجھ میں آئی۔ موجودہ زمانہ ایک اعتبار سے کیمرہ کا زمانہ ہے۔ کیمرہ اور رنگین چھپائی نے صحافت میں ایک نئی کشش پیدا کر دی ہے۔ ہر اخبار کا حسن اسی کیمرہ اور رنگین چھپائی پر منحصر ہے۔ مگر کیمرہ ایک ایسا آلہ ہے جو داخلی اسپرٹ کی تصویر کشی نہیں کر سکتا۔ وہ صرف ظاہری چیزوں ہی کی تصویر کشی کر سکتا ہے۔ اس بنا پر عملاً یہ ہوا ہے کہ اسلام کا کلچرل پہلو ہر طرف نمایاں ہورہا ہے۔ اور اسلام کا معنوی پہلو کہیں بھی نمایاں نہیں کیا جا رہا ہے۔ حالاں کہ اسلام کے کلچرل پہلو کی اہمیت صرف اضافی ہے اور اس کے معنوی پہلو کی اہمیت حقیقی۔ اس کا نتیجہ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ ہوا ہے کہ لوگوں کی نظر میں اسلامی زندگی کا خارجی یا

‹ Previous page Next page › Contents of July 2004 All issues

Printed page