Tel. 07152-243585, 240315
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۴، صفحہ ۶۹
ظاہری پہلو اہم بن گیا ہے اور اسلام کا داخلی پہلو عملاً غیر اہم ہو کر رہ گیا ہے۔
یہی معاملہ موجودہ زمانہ میں مسلم اداروں کا بھی ہوا ہے۔ جس ادارہ یا جماعت سے پاس ایسے درودیوار ہوں جو کیمرہ کی نگاہ میں آسکتے ہوں تو ایسے ادارے اپنی تصویروں کے ذریعہ لوگوں کو اہم معلوم ہونے لگتے ہیں اور جن اداروں کے پاس کیمرہ کی پکڑ میں آنے والی شاندار بلڈنگیں نہیں ہیں وہ عوام کی توجہ کا مرکز نہیں بنتے، خواہ وہاں حقیقت کے اعتبار سے کتنا ہی زیادہ بڑا کام ہو رہا ہو۔ ایک پروفیسر صاحب اسٹیج پر آئے۔ انھوں نے انگریزی میں ایک خوبصورت تقریر کی۔ انھوں نے کہا کہ سچائی کو پانے کے لئے سب سے زیادہ جس چیز کی ضرورت ہے وہ ناقابل مفاہمت سنجیدگی (uncompromising sincerity) ہے۔ لوگ عام طور پر یہ کرتے ہیں کہ وہ کہیں نہ کہیں دوسری چیزوں سے مفاہمت کرتے ہیں۔ اس لئے وہ سچائی کو دریافت کرنے سے محروم رہ جاتے ہیں۔ مگر اس خوبصورت تقریر کے بعد جب وہ کھانے کی میز پر آئے تو یہاں بالکل برعکس منظر تھا۔ کھانے کی میز پر کئی تعلیم یافتہ لوگ اکٹھا تھے۔ مگر میں نے دیکھا کہ مذکورہ پروفیسر اور ان کی بیوی نے کسی اور کو بولنے کا موقع ہی نہیں دیا۔ یہ دونوں بلند آواز سے بولتے اور بات بات پر قہقہہ لگاتے ۔ کھانے کی میز ان دونوں کی وجہ سے شور کی میز بن گئی۔ مزید یہ کہ ان کی باتوں کا موضوع کوئی علمی بات نہ تھی بلکہ وہ بالکل سرسری قسم کی باتیں تھیں۔ مثلاً ایک سفر میں جب یہ شوہر اور بیوی ریلوے اسٹیشن پر آئے تو وہ غلطی سے دوسری گاڑی میں بیٹھ گئے۔ اس طرح کے مختلف تجربات کو بیان کر کے میاں اور بیوی قہقہہ لگاتے رہے۔ ان کا یہ قہقہہ اس وقت ختم ہوا جب کہ وہ کھانے کے فراغت کے بعد وہاں سے اٹھ کر چلے گئے۔ اس منظر کو دیکھ کر مجھے پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث سمجھ میں آئی۔ اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں : انما اخاف علی امتی کل منافق يتكلم بالحكمة ويعمل بالجور ۔ یعنی مجھے سب سے زیادہ اندیشہ اس منافق انسان سے ہے جو حکمت کی بات کرے مگر اُس کا عمل اُس کے خلاف ہو۔ اس حدیث میں جس انسان کا ذکر کیا گیا ہے وہ انسان مسلمانوں کے اندر بھی پائے جاتے
‹ Previous page Next page › Contents of July 2004 All issues