Al-Risala · July 2004 · page 70

Tel. 07152-243585, 240315

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۴، صفحہ ۷۰

ہیں اور غیر مسلموں کے اندر بھی۔ میرے تجربہ کے مطابق، اس روش کے سب سے بڑے مصداق وہ لوگ ہیں جن کو موجودہ زمانہ میں دانشور (intellectuals) کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں جو ترقیاں ہوئی ہیں اُن میں سے ایک ترقی یہ ہے کہ لوگ خوبصورت الفاظ بولنے کے ماہر بن گئے ہیں۔ ان لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ اُن کے دل میں نہ درد ہوتا ہے اور نہ سنجیدگی۔ مگر وہ ایسی خوبصورت باتیں کرتے ہیں جن کو سننے والے دلچسپی کے ساتھ سنیں، اور نشر کرنے والے دلچسپی کے ساتھ اُن کو نشر کریں۔

ایک پروفیسر صاحب نے امن کی اہمیت پر تقریر کرتے ہوئے ایک عجیب بات کہی۔ انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ سارے جہان میں امن ہو___ آسمان میں امن، جانوروں میں امن، پیڑ پودوں میں امن اور خود امن میں امن:

We want the sky to be peaceful, the animal to be peaceful, the plants to be peaceful. We want even peace to be peaceful. شاید تقریر کی یہی قسم ہے جس کو تقریر برائے تقریر کہا گیا ہے۔ اُن کی اس تقریر میں الفاظ کی دھوم تو تھی مگر معنوی اعتبار سے اس کا کوئی مفہوم نکالنا مشکل تھا۔

۲۴ نومبر کی صبح کو ناشتہ کی میز پر کئی ہندو اسکالرس سے ملاقات ہوئی۔ ناشتہ حسب معمول نہایت سادہ اور صاف ستھرا تھا۔

ایک صاحب سے گفتگو کرتے ہوئے میں نے کہا کہ اختلاف ایک فطری چیز ہے۔ مگر جو چیز غیر فطری ہے وہ یہ ہے کہ اختلاف منفی ذہنیت میں تبدیل ہو جائے اور ایک دوسرے سے دور کر دے۔ آپ نے دیکھا ہوگا کہ چھوٹے بچے آپس میں کھیلتے ہیں تو بار باران کے درمیان وہ چیز پیدا ہوتی ہے جس کو ہم اختلاف (difference) کہتے ہیں۔ مگر اختلاف کے باوجود ان کے باہمی تعلق میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ یہ بچے فطرت کے سفیر ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ اختلاف میں کوئی حرج نہیں۔ حرج کی بات یہ ہے کہ اختلاف آگے بڑھ کر غصہ بن جائے۔ اختلاف اس وقت تک ایک جائز انسانی فعل ہے جب

‹ Previous page Next page › Contents of July 2004 All issues

Printed page