Tel. 07152-243585, 240315
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۴، صفحہ ۷۱
تک وہ صرف اختلاف رہے۔ مگر اس وقت وہ ایک شیطانی فعل بن جاتا ہے جب کہ اختلاف مزید بڑھ کر غصہ اور نفرت کی صورت اختیار کرلے۔
۲۴ نومبر کی صبح کے سشن میں ڈاکٹر نتین ویاس (Nitin Vyas) کا لکچر تھا۔ ان کا تعلق بڑودہ سے تھا۔ انھوں نے بدھ ازم کا فلسفہ بیان کیا۔ ان کی تقریر کا خلاصہ جو میری سمجھ میں آیا وہ یہ تھا کہ بدھا کی خاص توجہ انسان کے مصائب (suffering) پر تھی۔ بدھا کا اصل موضوع انسان تھا۔ انھوں نے بتایا کہ بدھا کی توجہ کا مرکز انسان تھا نہ کہ کوئی فوق الفطری وجود:
Buddha’s concern was merely man rather than any kind of supernatural being. ان کی تقریر میں غور سے سنتا رہا پھر میں نے سوچا کہ مسلمانوں میں کچھ لوگ گوتم بدھ کو پیغمبر بتاتے ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ گوتم بدھ دراصل ذوالکفل کی بدلی ہوئی صورت ہے۔ مگر بظاہر یہ نظریہ ناقابل فہم معلوم ہوتا ہے۔ گوتم بدھ کی اہمیت اس اعتبار سے یقیناً قابل قدر ہے کہ انھوں نے اخلاقی اقدار (moral values) کو پوری وضاحت اور پوری اہمیت کے ساتھ بیان کیا۔ مگر جہاں تک پیغمبری کی بات ہے وہ کم از کم موجودہ صورت میں ناقابل فہم ہے۔ پیغمبری کی ساری حیثیت یہ ہوتی ہے کہ وہ خدا کا نمائندہ ہے۔ خدا کے تصور کے بغیر پیغمبر کا تصور ممکن نہیں۔ ایسی حالت میں گوتم بدھ اگر پیغمبر تھے تو کسی نہ کسی صورت میں ان کے یہاں خدا کا تصور ملنا چاہئے تھا۔ پیغمبر کی صورت میں یہ ناممکن تھا کہ وہ ایک بے خدا مذہب (godless religion) کے بانی بن جائیں۔
موجودہ گاندھیئن انسٹی ٹیوٹ میں ایک سادہ مگر خوبصورت ہال بنا ہوا ہے۔ وہاں میں پہنچا تو گیٹ کے باہر جوتے اور چپل نہایت ترتیب کے ساتھ رکھے ہوئے تھے۔ اس مقصد کے لئے وہاں کوئی نگراں نہیں تھا۔ آنے والے مرد یا عورت خود ہی اپنے جوتے اتار کر ترتیب کے ساتھ رکھتے اور اندر داخل ہو جاتے۔ سامعین میں بیشتر لوگ نوجوان تھے مگر کہیں بھی شور یا قہقہہ یا زور زور سے بولنے کی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ حتی کہ ایک صاحب اپنا بچہ لائے تھے جو غالباً چار یا پانچ سال کا تھا۔ اجتماع گاہ
‹ Previous page Next page › Contents of July 2004 All issues