Tel. 07152-243585, 240315
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۴، صفحہ ۷۲
میں یہ بچہ اپنے ماں باپ کے ساتھ تھا۔ اندر باہر بھی آتا جاتا لیکن اس کی بھی آواز سنائی نہیں دی۔ حقیقت یہ ہے کہ گاندھین انسٹی ٹیُوٹ پورا کا پورا سائلنس کلچر (silence culture) کا نمونہ نظر آتا ہے۔ یہاں کے فطری ماحول میں درخت اگر غیر متحرک سکوت کا نمونہ تھے تو یہاں کے مرد اور عورت متحرک سکوت کا نمونہ۔
یہاں کا ہال جس میں اجتماع کی نشستیں ہوئیں اس کی ایک چیز خاص طور پر مجھے پسند آئی۔ اس کو اس طرح بنایا گیا تھا کہ چاروں طرف سے دھوپ اور ہوا اس میں داخل ہو رہی تھی۔ عام دستور یہ ہے کہ ہال میں ائر کنڈیشنر لگے ہوئے ہوتے ہیں۔ اس ائر کنڈیشننگ کی قیمت یہ ہوتی ہے کہ ہال کو چاروں طرف سے بند کر دیا جاتا ہے۔ یہ ہال اس قسم کے مصنوعی اہتمام سے پاک تھا۔ وہ گویا فطرت کے ماحول میں فطری انداز پر بنا ہوا ایک خوبصورت کھلا ہوا ہال تھا۔ وہ اپنے آپ میں ایک خاموش پیغام تھا۔ یہ پیغام کہ فطرت کے اُسلوب پر زندگی گزارو اور زندگی میں سچا سکون حاصل کرو۔ ۲۴ نومبر کو دوپہر سے پہلے کے سشن میں وقفہ کے بعد دوبارہ ڈاکٹر نیتن ویاس کی تقریر جاری رہی۔ تقریر کے دوران انھوں نے ایک بات یہ کہی کہ جین ازم اور بدھ ازم دونوں اہنسا وادی ہیں۔ دونوں پرامن مذہب کی حیثیت رکھتے ہیں:
Jainism & Buddhism both are against violence. Both are peaceful religion. اس کو سننے کے بعد میں نے غور کیا کہ کیا وجہ ہے کہ جب بھی امن پسند مذاہب کی فہرست بنائی جاتی ہے تو اس میں اسلام کا نام شامل نہیں کیا جاتا۔ جب کہ اسلام میرے مطالعہ کے مطابق، سب سے بڑا امن پسند مذہب ہے۔
اس پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ دوسرے مذہبی نظام عدم تشدد کی تلقین مطلق معنوں میں کرتے ہیں جو غیر فطری ہے اور نا ممکن ہے۔ جب کہ اسلام بھی عدم تشدد کا مذہب ہے مگر وہ فطری حدود میں عدم تشدد کی بات کرتا ہے، نہ کہ غیر فطری حدود میں جو کہ سرے سے ممکن ہی نہیں۔ اس بنا پر
‹ Previous page Next page › Contents of July 2004 All issues