Tel. 07152-243585, 240315
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۴، صفحہ ۷۳
لوگوں کو ایک قسم کے مذہبی نظام میں مصنوعی خوش نمائی دکھائی دیتی ہے جب کہ دوسرے قسم کے مذہبی نظام میں انہیں یہ کہنے کا موقع مل جاتا ہے کہ وہ اگر چہ امن کا پیغام دیتا ہے لیکن اس کا پیغام امن مطلق معنوں میں نہیں ہے۔
حالاں کہ یہ صرف ایک کہنے کی بات ہے۔ کیوں کہ مطلق اہنسا کا نظریہ صرف نظریہ ہے، وہ عملاً قابلِ اختیار ہی نہیں۔ موجودہ دنیا کو انسان نے نہیں بنایا ہے بلکہ اُس کا بنانے والا خدا ہے۔ اس لیے اس دنیا میں وہی اصول قابلِ عمل ہے جو خدا کے تخلیقی نقشہ کے مطابق ہو۔ جو اصول تخلیقی نقشہ سے مطابقت نہ کرے وہ موجودہ دنیا میں قابلِ عمل ہی نہیں۔ اس لیے وہ درست بھی نہیں۔
یہ نظریہ دراصل ماقبل سائنس دور (pre-scientific era) کی پیداوار ہے۔ پچھلے زمانہ میں انسان یہ سمجھتا تھا کہ زندگی صرف انسان اور حیوان میں ہوتی ہے۔ اس لیے اُس نے مذکورہ نظریہ بنا لیا۔ اب سائنس نے بتایا ہے کہ زندگی ہر چیز میں ہے۔ پانی، دودھ، سبزی، پھل، یہاں تک کہ ہوا میں بھی نا قابلِ مشاہدہ زندگی موجود ہے۔ کوئی آدمی جب بھی ان چیزوں کا استعمال کرتا ہے تو وہ بہت سی زندگیوں کو ہلاک کرتا ہے۔ اس کے بغیر کوئی شخص موجودہ دنیا میں زندہ ہی نہیں رہ سکتا۔ ایسی حالت میں مطلق اہنسا کا نظریہ مان کر کوئی شخص اپنے آپ کو زندگی سے محروم تو کر سکتا ہے مگر وہ اس دنیا میں زندہ نہیں رہ سکتا۔
حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں اسلام کا نظریہ ہی قابلِ عمل نظریہ ہے۔ کیوں کہ وہ ضرورت کے اصول پر مبنی ہے۔ مطلق اہنسا کا نظریہ ایک مفروضہ پر مبنی ہے اس لیے وہ قابلِ عمل ہی نہیں۔ ۲۴ نومبر کو دو پہر کے کھانے کے بعد حسب معمول کھانا شرکاء کانفرنس کے ساتھ کھایا۔ کھانے کے دوران لوگوں سے مختلف باتیں ہوتی رہیں۔ ایک صاحب نے مشہور قصہ کو دہراتے ہوئے کہا کہ گرو نا نک نے مکہ کا سفر کیا تھا اور وہاں کی مسجد میں گئے تھے۔ میں نے کہا کہ یہ قصہ سکھ لوگ ضرور بیان کرتے ہیں مگر مسلم ریکارڈ میں اس کا کوئی ذکر نہیں۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت گرو نا نک کوئی مشہور شخصیت نہیں بنے تھے اس لئے مسلم تاریخ میں اس کا تذکرہ ہونا ضروری نہیں۔ میں نے کہا کہ مگر دوسرا
‹ Previous page Next page › Contents of July 2004 All issues