Al-Risala · July 2004 · page 74

Tel. 07152-243585, 240315

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۴، صفحہ ۷۴

سوال یہ ہے کہ گرو نانک کے اس سفر کا مقصد کیا تھا۔ کیوں کہ سکھ روایات میں بھی ایسا نہیں کہا گیا ہے کہ وہ حج کی ادائیگی کے لئے وہاں گئے تھے۔ اگر یہ مانا جائے کہ وہ حج کا فریضہ ادا کرنے کے لئے وہاں گئے تھے تو یہ ماننا پڑے گا کہ وہ مسلمان تھے۔ اور اگر اس کو نہ مانا جائے تو یہ سمجھنا مشکل ہے کہ ان کے اس سفر کا مقصد کیا تھا۔ اگر یہ سفر کوئی مذہبی سفر تھا تو اس تجربہ کا ذکر اُن کی لکھی ہوئی کتاب میں ہونا چاہئے تھا۔ جب کہ ایسا نہیں ۔ ایسی حالت میں یہی کہا جائے گا کہ سفر کا یہ قصہ محض ایک افسانہ ہے، نہ کہ کوئی واقعہ۔

۲۴ نومبر کی شام کو جب میں اپنے کمرہ میں تھا تو دو آدمی ملاقات کے لئے آئے۔ ان کے نام یہ تھے: افضال مصطفیٰ خاں (سول انجینئر) محمد اعجاز اعظمی۔ یہ دونوں واردھا میں رہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم آپ کو ٹی وی پر بار بار سنتے رہے ہیں اور آپ کی کچھ تحریریں بھی پڑھی ہیں۔ معلوم ہوا کہ آپ یہاں ہیں تو ہم آپ سے ملنے کے لئے آگئے۔ انھوں نے ملت کی زبوں حالی کی بات کی۔ میں نے کہا کہ دوسروں کی شکایت کرنے سے کچھ فائدہ نہیں۔ آپ یہ فیصلہ کیجئے کہ خود آپ کو اس سلسلہ میں کیا کرنا ہے۔ میں نے کہا کہ کام کا ایک طریقہ وہ ہے جس میں بہت جلد بیڑا اٹھا ہو جاتی ہے ۔ بظاہر دیکھنے میں وہ بڑا کام نظر آتا ہے مگر اس طرح کے کام کی کوئی اہمیت نہیں۔ مؤثر اور نتیجہ خیز کام صرف یہ ہے کہ فرد فرد کو خطاب کیا جائے ۔ فرد فرد کے اندر ذہنی تبدیلی لانے کی کوشش کی جائے۔ اس طرح آدمی کا ذہن بنتا ہے۔ اور پھر جب زیادہ لوگوں کے ذہن بن جاتے ہیں تو وہ سماج بنتا ہے جس کو صالح سماج کہا جاتا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ اس طرح کام کرنے میں تو بہت زیادہ دیر لگے گی۔ میں نے کہا کہ آپ جس عوامی طریق کار کو کام سمجھتے ہیں وہ تو کئی نسل سے مسلمانوں کے اندر جاری ہے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ آج بھی آپ جیسے لوگ یہ سوچتے ہیں کہ ابھی کام کی ضرورت ہے۔ اگر عوامی طریق کار صحیح طریق کار ہوتا تو اب اس کا نتیجہ سامنے آ جانا چاہیے تھا۔ مگر جب کہ ابھی بھی بے شمار ہنگاموں کے باوجود کوئی مثبت نتیجہ دکھائی نہیں دیتا تو یہ ماننا ہوگا کہ جو کام کیا گیا وہ سرے سے کام ہی نہ تھا۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2004 All issues

Printed page