Al-Risala · July 2004 · page 75

Tel. 07152-243585, 240315

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۴، صفحہ ۷۵

انہوں نے کہا کہ آپ کے بارہ میں لوگ کہتے ہیں کہ آپ مسلم دشمن طاقتوں کے آلۂ کار ہیں۔ میں نے پوچھا کہ اس الزام کا ثبوت کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگ بتاتے ہیں کہ آپ اُن لوگوں کے جلسوں میں جاتے ہیں۔ اُن کے پروگراموں میں شریک ہوتے ہیں۔ حالاں کہ مسلم دشمن طاقتوں سے ہم کو دور رہنا چاہئے۔

میں نے کہا کہ یہ الزام صرف غلط فہمی پر قائم ہے۔ چوں کہ موجودہ مسلمانوں میں دعوتی ذہن نہیں، وہ صرف قومی ذہن کے تحت سوچنا جانتے ہیں۔ اس لیے وہ ہمارے مشن کو سمجھ نہیں پاتے۔ اصل یہ ہے کہ ہمارا مشن دعوت الی اللہ کا مشن ہے۔ ہم خدا کے پیغام کو خدا کے بندوں تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ کام ’’مسلم وار تحریک‘‘ کے ذریعہ نہیں ہو سکتا۔ مسلم وار تحریک کے ذریعہ مسلمانوں کی اصلاح کا کام ہو سکتا ہے، نہ کہ غیر مسلموں میں اسلام کا پیغام پہنچانے کا کام۔ داعی ہر ایک کو انسان کی صورت میں دیکھتا ہے۔ وہ اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ انسانوں کو دوست اور دشمن کے الگ الگ خانوں میں تقسیم کرے۔ وہ کچھ لوگوں کو بطور خود مسلم دوست بتا کر اُن سے قریب ہو اور کچھ لوگوں کو بطور خود مسلم دشمن قرار دے کر اُن سے دور ہو جائے۔ چوں کہ موجودہ مسلمانوں کا ذہن دعوتی ذہن نہیں ہے اس لیے وہ مسلم وار تحریک کی اہمیت کو فوراً سمجھ لیتے ہیں۔ اگر اُن کے اندر دعوتی ذہن ہوتا تو وہ جان لیتے کہ اس مقصد کے لیے ہمیں ہندو وار تحریک، کرسچین وار تحریک، حتی کہ یہود وار تحریک چلانا چاہئے۔ ہم نے اپنے مشن کے تحت اسلام پر تعارفی لٹریچر بڑی تعداد میں چھاپا ہے۔ ہم اس لٹریچر کو غیر مسلموں تک پہنچانے کی مسلسل کوشش کرتے ہیں۔ اس دعوتی کوشش کا ایک جزء یہ ہے کہ جب دوسرے مذہب کے لوگ کوئی پروگرام کرتے ہیں اور مجھ کو بلاتے ہیں تو میں وہاں جاتا ہوں اور موضوع کی نسبت سے وہاں اسلام کا تعارف پیش کرتا ہوں۔

یہاں میں نے جو تقریر کی ہے اُس کا ٹیپ موجود ہے۔ آپ اُس کو سنیے اور دیکھیے کہ میں نے یہاں کیا کہا ہے۔ حالاں کہ آپ جانتے ہیں کہ یہاں کے اجتماع میں سارے غیر مسلم لوگ تھے۔ ایک ہندو خاتون جو کانفرنس میں شریک تھیں انھوں نے کہا کہ میں یہ جاننا چاہتی ہوں کہ نماز

‹ Previous page Next page › Contents of July 2004 All issues

Printed page