Tel. 07152-243585, 240315
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۴، صفحہ ۷۶
کیسے پڑھی جاتی ہے۔ ان کا نام کو کلّا اپادھیائے تھا۔ وہ پروفیسر ایس اے اپادھیائے کی بیوی تھیں۔ وہ بمبئی سے آئی تھیں (Tel. 23803811)
۲۴ نومبر کی شام کو وہ میرے کمرے میں آئیں۔ میں نے وضو کیا اور ان کے سامنے دو رکعت نماز بلند آواز سے پڑھی۔ وہ بہت غور سے اس کو دیکھتی رہیں اور اس سے کافی متاثر ہوئیں۔ انھوں نے اسلام پر کتابیں پڑھنے کی خواہش ظاہر کی۔ ان کو ہمارے یہاں کی چھپی ہوئی چند انگریزی کتابیں دی گئیں ۔ اسی طرح اور بھی کئی لوگوں کو کتابیں دی گئیں۔ مثلاً ڈاکٹر نتین ویاس جو بڑودہ یونیورسٹی میں ڈپارٹمنٹ آف فلاسفی کے ہیڈ ہیں۔
۲۴ نومبر کی شام کو ڈاکٹر مودی سے ان کے گھر پر ملاقات ہوئی۔ وہ اس گاندھیائی ادارہ کے ڈائرکٹر ہیں۔ گفتگو کے دوران انھوں نے بتایا کہ وہ گاندھی روایات کے مطابق، خود اپنے کاتے ہوئے سوت کا کپڑا پہنتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ وہ روزانہ صبح کو ایک گھنٹہ سوت کاتنے کا کام کرتے ہیں۔ اس طرح ایک مہینہ کے کاتے ہوئے اس سوت سے ان کا ایک جوڑا کپڑا (کرتا اور پاجامہ) تیار ہو جاتا ہے۔ انھوں نے اپنا ماڈرن طرز کا چرچا بھی دکھایا۔ وہ اپنا کاتا ہوا سوت کھادی بھنڈار میں دے دیتے ہیں اور وہاں سے انھیں بُنا ہوا کپڑا مل جاتا ہے۔ ڈاکٹر مودی نہایت سادہ زندگی گزارتے ہیں۔ میں نے دیکھا کہ اُن کے گھر میں ضرورت کی چیزوں کے سوا کوئی اور چیز موجود نہ تھی۔ اُن کے گھر میں کوئی خادم بھی نہیں تھا۔ وہ اپنا ہر کام خود کرتے تھے۔ اُن کے بولنے کا انداز نرمی اور تواضع سے بھرا ہوا تھا۔ بڑائی کا کوئی احساس میں نے ان کے اندر نہیں پایا۔ اُن کے بیان کے مطابق، یہ گاندھیائی تعلیم کا نتیجہ تھا۔
مجھ کو نماز پڑھتے دیکھ کر ایک ہندو نے کہا کہ آپ لوگ مکہ مدینہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے ہیں۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ مسلمان چوں کہ اپنی عبادت کا مرکز مکہ مدینہ بنائے ہوئے ہیں، اس لئے ان کی وفاداری بھی مکہ مدینہ سے جڑی ہوئی ہے اور ان کے اندر حب الوطنی کا جذبہ صحیح معنوں میں پیدا نہیں ہونے پاتا۔ میں نے کہا کہ نماز کا قبلہ مکہ مدینہ یا عرب کا ملک نہیں ہے بلکہ کعبہ ہے جو کہ ایک
‹ Previous page Next page › Contents of July 2004 All issues