Tel. 07152-243585, 240315
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۴، صفحہ ۷۷
اُسٹرکچر ہے، نہ کہ جغرافی خطہ۔ آپ سمجھتے ہیں کہ مسلمان ہندوستانی جغرافیہ کے بجائے عرب کے جغرافیہ کو اپنا قبلہ بنائے ہوئے ہیں۔ مگر یہ سرے سے جغرافی مسئلہ نہیں۔ اصل یہ ہے کہ ابو الانبیاء حضرت ابراہیم نے چار ہزار سال پہلے پتھر کی ایک مسجد بنائی تھی جس کو کعبہ کہا جاتا ہے جو اب تک وہاں موجود ہے۔ یہی قدیم سنگی اُسٹرکچر، نہ کہ کوئی جغرافی خطہ، مسلمانوں کا عبادتی قبلہ ہے۔ میں نے کہا کہ وفاداری ایک الگ چیز ہے اور عبادت اُس سے الگ دوسری چیز۔ وفاداری کا تعلق وطن سے ہوتا ہے اور عبادت کا تعلق خدا سے۔ وطن اور خدا دونوں ایک دوسرے کے حریف نہیں ہیں۔ بلکہ دونوں دو مختلف موضوع سے تعلق رکھتے ہیں۔ وطن وہ زمینی خطہ ہے جہاں کوئی شخص پیدا ہوا اور وہاں زندگی گزارے۔ وطن سے محبت کا تعلق مذہب سے نہیں ہے۔ وطن سے محبت ایک فطری جذبہ ہے جو ہر انسان کے اندر اپنے وطن کے لیے ہوتا ہے۔ ہندوستان کے ہندو ہندوستان سے وطنی محبت رکھتے ہیں مگر جن ہندوؤں کا تعلق دوسرے ملکوں سے ہے اُن کے دلوں میں ان دوسرے ملکوں کے لیے وطنی محبت پائی جاتی ہے۔ یہ ایک انسانی فطرت کا معاملہ ہے، اور اس معاملہ میں ہندو اور مسلمان کے درمیان کوئی فرق نہیں۔
عبادت خدا سے تعلق کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔ خدا سے تعلق ایک برتر انسانی جذبہ ہے۔ اْس کا تعلق کسی ملک یا کسی زمینی خطہ سے نہیں۔ حتیٰ کہ ایک شخص چاند یا مریخ پر ہو تو وہاں بھی اُس کو خدا کی یاد آئے گی اور وہاں بھی وہ خدا کے آگے اپنا سر جھکانے کو اپنا مقدس فرض سمجھے گا۔ خدا نہ صرف کسی ملک سے بلکہ ساری زمین اور پوری کائنات سے بلند ہے۔ کعبہ سے مسلمانوں کا جو تعلق ہے وہ الگ نوعیت کا ایک تعلق ہے، وطنی وفاداری سے اْس کو مشابہت نہیں دی جاسکتی۔
مشہور صحافی مسٹر خوشونت سنگھ ہندوستان ٹائمس میں اپنا ایک ہفتہ وار کالم لکھتے ہیں۔ یہ بہت دلچسپی کے ساتھ پڑھا جاتا ہے۔ ہندوستان ٹائمس کے شمارہ ۲۲ نومبر ۲۰۰۳ میں ان کا کالم اس عنوان کے ساتھ تھا:
‹ Previous page Next page › Contents of July 2004 All issues