Al-Risala · July 2004 · page 78

Tel. 07152-243585, 240315

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۴، صفحہ ۷۸

اس میں انھوں نے بتایا تھا کہ ایک بار مشہور لیڈر مسٹر وی پی سنگھ ان کے گھر پر تھے۔ خوشونت سنگھ نے ان سے پوچھا کہ کیا آپ خدا میں عقیدہ رکھتے ہیں (Do you believe in God) انھوں نے جواب دیا کہ نہیں (I do not) مسٹر خوشونت سنگھ نے کہا کہ پھر آپ گڈ لک چارم (goodluck charm) کے طور پر یہ انگوٹھی کیوں پہنے ہوئے ہیں۔ یہ تو وہی لوگ پہنتے ہیں جو اوپر والی طاقت کو مانتے ہیں۔ مسٹر وی پی سنگھ نے کہا کہ وہ تو میرے لڑکے نے دیا تھا اس لئے میں نے پہن لیا۔ میں نے اس واقعہ پر غور کیا تو مجھے یاد آیا کہ بہت سے لوگ جو خدا کے وجود کا اعتراف نہیں کرتے مگر وہ کسی نہ کسی طور پر ایسا عمل کرتے ہیں جس سے وہ امید رکھتے ہیں کہ انھیں کامیابی حاصل ہوگی۔ اصل یہ ہے کہ خدا کے انکار کے باوجود انسان مستقل طور پر احساسِ عجز (helplessness) کا شکار رہتا ہے۔ اسی احساسِ عجز کی تلافی کے لئے وہ اس قسم کی چیزیں کرنے لگتا ہے جس کا ایک نمونہ مذکورہ واقعہ میں دکھائی دیتا ہے۔

جہاں تک مذکورہ قسم کی انگوٹھی کا تعلق ہے، وہ صرف تو ہم پرستی (superstition) کا ایک معاملہ ہے۔ جو لوگ خدا کو نہیں مانتے وہ خدا کے بدل کے طور پر کسی نہ کسی قسم کی تو ہم پرستی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ وہ اپنے عجز کی تلافی کے لیے توہم پرستانہ عقائد کا سہارا لے لیتے ہیں۔ خدا کا انکار کر کے وہ کسی غیر خدا کو اپنا خدا بنا لیتے ہیں۔ یہی خدا کو نہ ماننے والوں کی عام حالت ہے۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان جو واردھامیں رہتے ہیں ملنے کے لئے آئے۔ گفتگو کے دوران انہوں نے مختلف باتیں کیں۔ ایک بات یہ تھی کہ آج کل کے بچے بہت ہوشیار ہوتے ہیں۔ انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ میرا چھ سال کا لڑکا شام کو بائیسکل لے کر نکلا۔ اندھیرا شروع ہو چکا تھا اس لئے میں نے بچے سے کہا کہ دیکھو سنبھال کر بائیسکل چلانا۔ کوئی ساتھ چلنے کے لئے کہے تو اس کے ساتھ مت چلے جانا۔ بچے نے جواب دیا کہ میں کوئی پاگل ہوں ۔ وہ کوئی میرا دوست ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تمھارے ہی دماغ کا اسکرو ڈھیلا ہو گیا ہے۔

یہ واقعہ علامتی طور پر بتاتا ہے کہ آج کل کے زمانہ میں کس طرح بڑوں کی عزت کا تصور ختم ہو گیا

‹ Previous page Next page › Contents of July 2004 All issues

Printed page