Tel. 07152-243585, 240315
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۴، صفحہ ۸۴
پیس قائم کرنے کے لئے سب سے زیادہ ضروری چیز برداشت (restraint) ہے۔ برداشت کرنے والے کو پیس آف مائنڈ ملتا ہے جو کہ جین ازم میں انسانی ترقی کا اعلیٰ درجہ ہے۔ اس سلسلہ میں میں نے سوال کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا یہ کہنا صحیح ہے کہ برداشت سے پیس حاصل ہوتا ہے۔ مگر سوال یہ ہے کہ کوئی برداشت کیوں کرے۔ برداشت میں کچھ چھوڑنا پڑتا ہے۔ اور انسان چھوڑنے پر اسی وقت راضی ہوتا ہے جب کہ اس کو کوئی اس سے بڑی چیز مل رہی ہو۔ میں نے کہا کہ اسلام میں بھی صبر و برداشت کا اصول ہے۔ اسلام میں اس کا انعام یہ بتایا گیا ہے کہ ایسے آدمی کو ایٹرنل پیراڈائز بطور انعام ملے گی۔ مگر آپ جس چیز کو انعام بتاتے ہیں وہ صرف پیس آف مائنڈ ہے۔ انسان کا نفسیاتی مطالعہ بتاتا ہے کہ آدمی صرف پیس آف مائنڈ کے نام پر اپنے مادی حقوق کو چھوڑنے پر راضی نہیں ہوتا۔ اسلام ضبط (restraint) کی زندگی کا انعام جنت کی ایٹرنل ورلڈ کی شکل میں دیتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلام میں ضبط و تحمل کی تعلیم بھی ہے اور اسی کے ساتھ ضبط و تحمل کا محرک بھی۔ جب کہ دوسرے مذہبی یا غیر مذہبی نظاموں میں یہ ہے کہ وہ ضبط و تحمل کی تلقین تو کرتے ہیں مگر وہ اس کے لیے کوئی محرک (incentive) پیش نہیں کر پاتے۔ اور محرک کے بغیر صرف تلقین کی عملی طور پر کوئی اہمیت نہیں۔
۲۶ نومبر کو عید الفطر کا دن تھا۔ برادرم انوار اسماعیل خاں کے ساتھ واردھا کی عید گاہ میں عید کی نماز ادا کی۔ کافی مسلمان اکٹھا تھے۔ دہلی کے برعکس وہاں دھوپ کا موسم تھا۔ لوگوں نے اطمینان کے ساتھ تیز دھوپ کی حالت میں کھلے میدان میں نماز ادا کی اور نماز کے بعد سکون کے ساتھ اپنے گھروں کو چلے گئے۔
امام صاحب نے نماز اور خطبہ کے بعد لاؤڈ اسپیکر پر دعا کی۔ اس میں دوسرے الفاظ کے ساتھ یہ الفاظ بھی شامل تھے: (اللهم اهلك الكفرة والمشركين (اے خدا، کافروں اور مشرکوں کو ہلاک کر دے) پھر اسی دعا میں انھوں نے یہ بھی کہا کہ خدایا، مسلمانوں اور ہندوؤں کے تعلقات کو بہتر
‹ Previous page Next page › Contents of July 2004 All issues