Al-Risala · July 2004 · page 85

Tel. 07152-243585, 240315

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۴، صفحہ ۸۵

بنا۔ گویا انھوں نے ایک طرف جن غیر مسلموں کے ساتھ بہتر تعلقات کی خواہش ظاہر کی انھیں کے بارے میں یہ بد دعا بھی کی کہ خدا انہیں ہلاک کر دے۔ میں نے سوچا کہ یہ تضاد کیوں۔ میری سمجھ میں آیا کہ لوگ نہ پہلا جملہ کہنے میں زیادہ سنجیدہ ہیں اور نہ دوسرا جملہ کہنے میں۔ اسی بے شعوری کا نتیجہ تھا کہ ان کے کلام میں تضاد پیدا ہو گیا۔

نماز سے پہلے اپنی تقریر میں امام صاحب نے یہ بات کہی کہ واردھا میں نماز سے پہلے عید کی نماز صرف ایک جگہ ہوتی تھی۔ اب کچھ لوگوں نے ایسے حالات پیدا کئے کہ اس سال یہاں چھ جگہ عید کی نماز ہو رہی ہے۔ انھوں نے ایسے اختلاف پسند لوگوں کے خلاف کئی ایسی حدیثیں سنائیں جن میں ان لوگوں کے خلاف سخت وعید کا انتباہ دیا گیا تھا۔ پھر امام صاحب نے کہا کہ اگر کچھ لوگوں کو مجھ سے اختلاف تھا تو انھیں چاہئے تھا کہ وہ مجھ سے مل کر معاملہ کی صفائی کریں نہ یہ کہ دوسرے لوگوں کو اپنے ساتھ لے کر نئی جماعتیں قائم کریں۔

میں نے سوچا کہ امام صاحب کو جن لوگوں سے شکایت ہوئی ان کے بارے میں تو وہ عمومی جلسہ میں لاؤڈ اسپیکر پر تقریر کر رہے ہیں اور جن لوگوں کو خود ان کی ذات سے شکایت ہے ان سے وہ یہ چاہتے ہیں کہ وہ ذاتی طور پر ان سے مل کر خاموشی کے ساتھ اختلاف کو ختم کرنے کی کوشش کریں۔ جو لوگ اس طرح کے تضاد میں مبتلا ہوں اُن کی نہ تقریر کا کوئی فائدہ ہے اور نہ تحریر کا۔ اس کانفرنس میں ۲۴ نومبر کا دن اسلام کے لئے خاص کیا گیا تھا۔ چنانچہ نماز سے فارغ ہو کر میں سیدھے اجتماع گاہ میں پہنچا۔ جسٹس سی ایس ادھکاری جو گاندھین انسٹی ٹیوٹ کے چئرمین ہیں اور بمبئی میں رہتے ہیں، وہ میری تقریر سننے کے لئے اپنا بمبئی کا پروگرام کینسل کر کے اپنی فیملی کے ساتھ رات کے وقت ناگپور پہنچے اور پھر صبح کے وقت گاندھیائی سینٹر میں آ کر پروگرام میں شرکت کی۔ جسٹس ادھکاری مہاراشٹر کی معروف شخصیت ہیں۔ وہ اپنی سادگی اور انصاف پسندی اور رواداری کے لئے مشہور ہیں۔ اس علاقہ میں عام طور پر اُن کو احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ وہ سماجی فلاح کے کام بھی کرتے رہتے ہیں۔ ۱۹۹۳ میں وہ ہماری اُس شانتی یاترا میں شامل تھے جس کا تفصیلی ذکر راقم

‹ Previous page Next page › Contents of July 2004 All issues

Printed page