Al-Risala · July 2004 · page 35

آئیں ابوالکلام جو وردھا سے گھوم کر

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۴، صفحہ ۳۵

الحروف کی کتاب اسفار ہند میں آیا ہے۔ یہاں اُن کے ساتھ ان کی بیوی کے علاوہ اُن کا ایک لڑکا بھی تھا۔ میں نے دیکھا کہ اُن کا لڑکا جو غالباً دس سال کی عمر کا ہوگا، وہ بھی جسٹس ادھیکاری کے مزاج میں بالکل ڈھلا ہوا تھا۔

۲۶ نومبر کی شام کو میں ونو با بھاوے کے آشرم (پونار) گیا۔ یہ سیواگرام کے قریب سے ۱۱ ایکڑ کے رقبہ میں واقع ہے۔ اس آشرم میں زیادہ تر خواتین تھیں جنھوں نے ساری زندگی مجرد رہنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہاں مردوں اور عورتوں کا ایک اجتماع ہوا۔ اس میں مجھے خطاب کرنے کے لئے کہا گیا۔ میں نے روحانیت اور انسانی خدمت کے موضوع پر تقریباً آدھ گھنٹہ خطاب کیا۔

۲۷ نومبر کی صبح کو میں ڈاکٹر مودی کے ساتھ سیواگرام گیا۔ یہ مہاتما گاندھی کا قائم کیا ہوا ادارہ ہے جو ۱۱۰۰ ایکڑ کے رقبہ میں قائم ہے۔ سیواگرام ایک گاؤں ہے۔ گوپوری اسی علاقہ میں واقع ہے۔ پہلے یہ سیگا ؤں (Segaon) کے نام سے ایک چھوٹا گاؤں تھا۔ مہاتما گاندھی نے اپنا ایک مثالی گاؤں بنانے کے لئے اس کو چنا اور اس کا نام سیواگرام رکھا۔ ۱۹۳۶ میں گاندھی جی سا برمتی آشرم (احمد آباد) کو چھوڑ کر یہاں آگئے۔ سیواگرام کو انہوں نے آزادی ہند کی تحریک کا مرکز قرار دیا۔ یہاں ان کی کُٹی میں دوسرے سامانور کے ساتھ قدیم انداز کا ایک ٹیلی فون رکھا ہوا ہے جس کے ذریعہ وہ باہر کے لوگوں سے بات کرتے تھے۔ یہاں انھوں نے اپنے تصور کے مطابق، ایک ماڈل کمیونٹی بنانے کی کوشش کی۔ اس ماڈل کمیونٹی کا آدرش سادہ اور بے غرض اور سروس کی زندگی اختیار کرنا تھا۔ اگر چہ اس قسم کے دوسرے منصوبوں کی طرح وہ گاندھی کا تصوراتی گاؤں نہ بن سکا۔ مولا نا ابوالکلام آزاد گاندھی کے مشن میں شریک تھے اور مولا نا ظفر علی خاں مسلم لیگ سے وابستہ تھے۔ ظفر علی خاں نے مولانا آزاد کے گاندھی سے تعلق کا مذاق اڑاتے ہوئے ایک نظم لکھی تھی۔ اس کا ایک مصرع یہ تھا:

آئیں ابوالکلام جو وردھا سے گھوم کر

اب سیواگرام میں مہاتما گاندھی کے خوابوں کا ماڈل ویلج یا ولج گورنمنٹ کا منظر تو دکھائی نہیں

‹ Previous page Next page › Contents of July 2004 All issues

Printed page