Books act like soap for the mind
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۴، صفحہ ۳۶
دیتا البتہ مہاتما گاندھی سے وابستگی کی وجہ سے اس کی ایک تاریخی اہمیت ہے۔ اس اعتبار سے اس کو دیکھنے کے لئے لوگ اکثر یہاں آتے رہتے ہیں۔
یہاں جگہ جگہ بہت سے کتبے لگے ہوئے تھے۔ ایک کتبہ میں مہاتما گاندھی کا یہ قول نقل کیا گیا تھا کہ کتا بیں دماغ کے لئے صابن کی مانند ہیں:
Books act like soap for the mind
ایک جگہ بورڈ پر لکھا ہوا تھا کہ سات سماجی برائیاں ہیں۔ اُن میں سے چار یہ ہیں: ”سیاست اصول کے بغیر، دولت عمل کے بغیر، ضمیر اخلاق کے بغیر، علم کردار کے بغیر“ واردھا (گوپوری) میں قیام کے دوران عبد السلام اکبانی صاحب سے چند بار ٹیلی فون پر بات ہوئی جو یہاں سے تقریباً ہیں کلومیٹر کے فاصلہ پر ناگپور میں رہتے ہیں۔ طے شدہ پروگرام کے مطابق، ۲۲۷ نومبر کی شام کو یہاں سے روانہ ہو کر ناگپور پہنچا۔ ناگپور میں عام خطاب کا کوئی پروگرام نہ تھا۔ البتہ انفرادی اور اجتماعی صورت میں لوگوں سے ملاقاتیں ہوتی رہیں، مثلاً جسٹس ایم ایم قاضی صاحب اور ان کے ادارے کے لوگ، وغیرہ۔
ناگپور میں میرا قیام عبدالسلام اکبانی صاحب کے گھر پر تھا۔ وہ دعوت کا کام کرتے رہتے ہیں۔ ان کی اہلیہ محترمہ زبیدہ خاتون لمبے عرصہ سے خواتین میں دعوت و اصلاح کا کام کر رہی ہیں۔ ان کے ہفتہ وار اجتماعات میں خواتین بڑی تعداد میں شریک ہوتی ہیں۔ محترمہ زبیدہ خاتون سے میں نے پوچھا کہ خاندانی زندگی کو کامیاب بنانے کا راز کیا ہے۔ انھوں نے اس کا جواب صرف ایک لفظ میں دیا، اور وہ تھا صبر۔
عبدالسلام اکبانی صاحب کے آفس میں اور اسی طرح جناب عبدالغفور پاریکھ صاحب کے آفس میں نشست کے انداز میں مختصر اجتماعات ہوئے۔ اس موقع پر میں نے مسلمانوں کے موجودہ حالات کی نسبت سے کچھ باتیں کہیں ۔ ایک بات یہ تھی کہ موجودہ زمانہ میں ساری دنیا میں مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ وہ شکایت اور احتجاج کی نفسیات میں جیتے ہیں۔ اس کا نقصان یہ ہے کہ موجودہ مسلمان
‹ Previous page Next page › Contents of July 2004 All issues