Books act like soap for the mind
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۴، صفحہ ۳۷
دوسری قوموں کو اپنا دشمن سمجھنے لگے ہیں۔ اس منفی نفسیات کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوا ہے کہ مسلمانوں کے اندر دعوت کا مزاج ختم ہوگیا۔ دعوت ایک ایسا عمل ہے جو محبت اور خیر خواہی کی نفسیات کے تحت ظاہر ہوتا ہے۔ نفرت کی نفسیات کے تحت کبھی دعوت کا عمل ظہور میں نہیں آتا۔
۲۸ نومبر کو جمعہ کا دن تھا۔ جمعہ کی نماز ناگپور کی ایک مسجد میں پڑھی۔ اس سفر کے دوران میرے ساتھ ایک واقعہ پیش آیا۔ مسل کھنچ جانے (muscle pull) کا واقعہ تھا۔ اس کی وجہ سے میرے کولہے میں کچھ تکلیف ہوگئی۔ معتدل انداز میں چلنا اور اٹھنا بیٹھنا مشکل ہوگیا۔ چنانچہ میں نے مسجد میں کچھ نماز کھڑے ہو کر پڑھی اور کچھ نماز بیٹھ کر۔
مسجد میں ایک بزرگ سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے میری حالت دیکھ کر کہا: اب آپ چلنے پھرنے کے لئے لاٹھی استعمال کیجئے۔ یہ بظاہر خیر خواہی کا جملہ تھا مگر وہ میرے نزدیک بے حسی کا جملہ تھا۔ مجھے ان کا یہ جملہ پسند نہیں آیا۔ اس قسم کی فرضی خیر خواہی ہمارے سماج میں عام ہے۔ صحیح طریقہ یہ ہے کہ آدمی اگر سچی خیر خواہی کر سکے تو کرے۔ اگر آدمی کے پاس صرف فرضی خیر خواہی کے الفاظ ہوں تو بہتر ہے کہ وہ چپ رہے۔ وہ اس حدیث رسول پر عمل کرے: من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فليقل خيراً أو ليصمت ۔ میرے پاؤں کی مذکورہ تکلیف صرف ایک وقتی تکلیف تھی۔ چنانچہ اب خدا کے فضل سے میں پوری طرح نارمل ہو چکا ہوں۔
یہاں ایک صاحب نے میری تفسیر (تذکیر القرآن) پر عجیب و غریب تنقید کی۔ انھوں نے اس کو نہ صرف بے فائدہ بتایا بلکہ اس کو قرآن سے انحراف قرار دیا۔ اُن کے نزدیک قرآن کا صرف ترجمہ کیا جانا چاہیے ۔ قرآن کی تفسیر لکھنا ان کے نزدیک درست نہیں۔ اس عجیب و غریب نظریہ کو میں خاموشی کے ساتھ سنتا رہا۔ میں نے قرآن کی تفسیر پہلی بار نہیں کی ہے۔ ہزار برس سے لوگ قرآن کی تفسیر کرتے رہے ہیں مگر انھوں نے صرف میرے اوپر تنقید کی اور دوسرے سینکڑوں مفسرین کے بارے میں کچھ نہیں کہا۔ دوسری بات یہ ہے کہ خود قرآن میں بار بار ہدایت کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ تم قرآن میں تدبر کرو۔ تدبر ہمیشہ بین السطور کو پڑھنے کے لئے ہوتا ہے نہ کہ صرف سطور کو پڑھنے کے لئے۔ اصحاب
‹ Previous page Next page › Contents of July 2004 All issues