Al-Risala · July 2004 · page 38

Books act like soap for the mind

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۴، صفحہ ۳۸

رسول سے لے کر اب تک علماء امت کا یہ عمل رہا ہے کہ وہ اپنی گفتگو اور درس اور تقریر و تحریر میں قرآنی آیتوں کے بین السطور معانی کو بیان کرتے رہے ہیں۔ پھر اگر علماء امت کا یہ مسلسل عمل درست ہے تو میرا قرآن کی تفسیر لکھنا اور اس کو شائع کرنا کیوں غلط ہو جائے گا۔ حدیث میں آیا ہے کہ : لا تنقضی عجائبه ( قرآن کے عجائب کبھی ختم نہ ہوں گے ) اس سے واضح طور پر صرف وہ بات مراد نہیں ہے جو ترجمہ کے ذریعہ معلوم ہوتی ہے۔ بلکہ یقینی طور پر اس میں وہ باتیں بھی شامل ہیں جو ترجمہ سے براہ راست معلوم نہیں ہوتیں بلکہ غور و فکر کر کے اس سے مستنبط کی جاتی ہیں۔ اسی کا نام تفسیر ہے اور یہ تفسیر قرآن کی ہدایت کے مطابق بھی ہے اور حدیث کی تعلیمات کے مطابق بھی۔

ناگپور ضلع کے ایک صاحب نے میرے خلاف ایک کتاب چھاپی ہے۔ اس کا نام ہے ــ وحدانیت یا وحید خانیت۔ مذکورہ صاحب اس کتاب کو مفت پھیلا رہے ہیں۔ یہاں ایک صاحب نے اس کتاب کا ذکر کیا۔ میں نے کہا کہ اس کتاب کا نام ہی یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ وہ غیر علمی ذہن کے تحت لکھی گئی ہے۔ کتاب کا یہ نام استہزاء اور تنابز بالالقاب کی ایک واضح مثال ہے۔ بدقسمتی سے مسلمانوں کے اندر یہ مزاج اتنا عام ہو گیا ہے کہ وہ یہ سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں کہ یہ طریقہ اسلام میں حرام ہے۔ اسلام میں سنجیدہ اور مدلل اختلاف یقیناً جائز ہے مگر استہزاء اور تنابز بالالقاب یقینی طور پر اسلام میں جائز نہیں۔

مہاراشٹر کے سفر کے دوران ۲۷ نومبر ۲۰۰۳ کو میں ناگپور پہنچا تھا۔ ۲۹ نومبر کو دہلی کے لئے واپسی ہوئی۔ اس دوران کئی قیمتی قسم کے سبق آموز تجربے ہوئے۔ ان تجربات کی تفصیل اس سفر نامہ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ تاہم کچھ باتیں مختصر طور پر یہاں درج ہیں۔

عبدالسلام اکبانی صاحب کے ساتھ ناگپور شہر کے مختلف حصے بذریعہ کار گھوم کر دیکھے۔ میں نے اس سے پہلے بھی ناگپور دیکھا ہے مگر موجودہ مشاہدہ میں اندازہ ہوا کہ پچھلے چند سالوں میں ناگپور میں شہری اعتبار سے بہت سی ترقیاں ہوئی ہیں۔ وہاں کی سڑکیں چوڑی کی گئی ہیں۔ صفائی کا خصوصی اہتمام ہے۔ ہر طرف ہریالی نظر آتی ہے۔ انفراسٹرکچر (infrastructure) پہلے کے مقابلہ میں واضح طور پر بہتر

‹ Previous page Next page › Contents of July 2004 All issues

Printed page