Al-Risala · July 2004 · page 39

Books act like soap for the mind

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۴، صفحہ ۳۹

ہو گیا ہے، وغیرہ۔ اس ترقیاتی کام سے ہر فرقہ کو غیر معمولی فائدہ حاصل ہوا ہے۔ میرا تجربہ ہے کہ ترقی کے سلسلہ میں اصل اہمیت اچھے انفراسٹرکچر کی ہوتی ہے اور ناگپور کے لوگوں کو یہی چیز حاصل ہوئی ہے۔ معلوم ہوا کہ یہ سارا کام ایک کمشنر نے انجام دیا ہے۔ اس نے نہایت حکمت کے ساتھ متعلقہ ذمہ داروں کو اپنے ساتھ لیا اور عوام کی تائید حاصل کی۔ اس کام کے لئے ورلڈ بینک سے مالیاتی امداد ملی تھی۔ اس طرح تین سال کی مدت میں ناگپور کا نقشہ بدل گیا۔ ضرورت ہے کہ ہندوستان کے ہر شہر میں اسی طرح انفراسٹرکچر کو بہتر بنایا جائے۔ یہی قومی ترقی کا سب سے بڑا راز ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان خود اپنی فطرت کے زور پر ترقی کی طرف دوڑنا چاہتا ہے۔ ضرورت صرف یہ ہے کہ اس کو کھلا راستہ فراہم کر دیا جائے۔

کسی ملک کی ترقی کے لئے سب سے زیادہ اہم چیز اچھا انفراسٹرکچر ہے۔ بدقسمتی سے یہ ہوا کہ ۱۹۴۷ میں جن لوگوں کے ہاتھ میں ملک کا اقتدار آیا وہ انفراسٹرکچر کی اہمیت کو سمجھ نہ سکے۔ انھوں نے تعمیر نو کے لئے سب سے زیادہ اہمیت جس چیز کو دی وہ یہ تھا کہ ملک میں سماج واد قائم کیا جائے۔ اس مقصد کے لئے جو تحریکیں چلائی گئیں ان کا انجام یہ ہوا کہ عوام حقوق طلب بن کر رہ گئے۔ ان میں محنت کے بجائے رعایت کا مزاج پیدا ہو گیا۔ وہ چاہنے لگے کہ حکومت انھیں روزگار دے۔ حکومت انھیں سستا سامان دے۔ کام کئے بغیر انھیں اچھی تنخواہ ملے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہمارا سماج فرض شناس سماج نہ بن سکا، وہ بس حقوق شناس سماج بن کر رہ گیا۔

ہمارے ملک کے عوام کا یہ مزاج ترقی کے راستہ میں ایک مستقل رکاوٹ ہے۔ اسی کا یہ نتیجہ ہے کہ حکومت اگر انفراسٹرکچر کو بہتر بنانے کی کوشش کرے تو عوام اس کو اپنے خلاف ایک سازش سمجھ لیتے ہیں۔ کیوں کہ انھیں نظر آتا ہے کہ جب ایسا کیا جائے گا تو ان کے لئے سرکاری ملازمت کے مواقع کم ہو جائیں گے۔ میں سمجھتا ہوں کہ لوگوں کو محنت پر بھروسہ کرنا چاہئے نہ کہ سرکاری ملازمتوں پر۔ اس کے سوا ترقی کی کوئی اور صورت نہیں۔

پچھلے سالوں میں ناگپور اور حیدر آباد میں شہری ترقی کا کام بہت زیادہ ہوا ہے۔ مگر میں سمجھتا

‹ Previous page Next page › Contents of July 2004 All issues

Printed page