Books act like soap for the mind
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۴، صفحہ ۴۰
ہوں کہ موجودہ طرز کا جمہوری نظام اس قسم کی ترقی کے لئے ایک غیر ضروری رکاوٹ کی حیثیت رکھتا ہے۔ موجودہ دنیا میں ہر ترقیاتی عمل میں ایسا ہوتا ہے کہ کم از کم ابتدا میں ایک طبقہ کو فائدہ ہوتا ہے اور دوسرا طبقہ بظاہر محروم نظر آتا ہے۔ قدیم زمانہ میں بادشاہی نظام اس بات کی ضمانت ہوتا تھا کہ’’ محروم طبقہ‘‘سر نہ اٹھائے اور ترقیاتی عمل برابر جاری رہے۔
مگر موجودہ جمہوری نظام میں ایسا نہیں ہوتا۔ چنانچہ ترقیاتی عمل کے دوران جب کوئی محروم طبقہ پیدا ہوتا ہے تو سستی لیڈری چاہنے والے لوگ محروم طبقہ کے نجات دہندہ بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ وہ محروم طبقہ کی اکثریت کو برسر اقتدار گروہ کے خلاف بھڑکا دیتے ہیں۔ اس طرح سماج میں ایک طبقاتی کشمکش پیدا ہوتی ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ترقی کا عمل ٹھپ ہو کر رہ جاتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ انسانوں کے درمیان فرق کسی ظلم یا سازش کا نتیجہ نہیں۔ وہ فطرت کا ایک قانون ہے جو ہمیشہ باقی رہتا ہے۔ حتی کہ اگر محروم طبقہ کو منظم کرنے کی سیاست چلا کر ایسا کیا جائے کہ خود محروم طبقہ سماج میں جگہ پالے تو دوبارہ خود محروم لوگوں میں دو طبقہ پیدا ہو جائے گا اور دوبارہ ایک اور دوسرے کے درمیان وہی اونچ نیچ پیدا ہو جائے گی جو اس انقلاب سے پہلے پائی جاتی تھی۔ فطرت کے نقشہ میں ایسے لازمی اسباب موجود ہیں جو ہمیشہ ایک انسان اور دوسرے انسان کے درمیان فرق کی حالت پیدا کر دیتے ہیں۔ یہ فرق کوئی برائی نہیں بلکہ وہ ایک خوبی کی چیز ہے۔ دراصل یہی فرق ہے جس سے ایک انسان اور دوسرے انسان یا ایک گروہ اور دوسرے گروہ کے اندر چیلنج اور مسابقت کی صورتیں پیدا ہوتی ہیں۔ اس چیلنج اور مسابقت سے لوگوں کے اندر چھپی ہوئی صلاحیتیں جاگتی ہیں۔ لوگ مسلسل طور پر متحرک ہو جاتے ہیں۔ اس کے نتیجہ میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ جو لوگ حال میں پیچھے تھے وہ مستقبل میں آگے ہو جاتے ہیں اور جو حال میں آگے نظر آتے تھے وہ مستقبل میں پیچھے دھکیل دئے جاتے ہیں۔ یہ زندگی کا فطری نظام ہے۔ اس نظام کو بدلنے کی کوشش ہمیشہ تباہ کن نتائج پیدا کرتی ہے۔ اس کی ایک نمایاں مثال وہ ہے جو اشتراکی دنیا (سوویت یونین) میں پیش آئی ۔ جہاں ۷۵سال تک ہمالیائی کوششوں کے باوجود یہ ہوا کہ معاشی نابرابری تو
‹ Previous page Next page › Contents of July 2004 All issues