Al-Risala · July 2004 · page 41

Books act like soap for the mind

الرسالہ، جولائی ۲۰۰۴، صفحہ ۴۱

ختم نہ ہوسکی البتہ سماج نا قابل بیان تباہی کا شکار ہو کر رہ گیا۔

حقیقت یہ ہے کہ قابل بقا (sustainable) ترقیاتی عمل صرف ایک ایسے معاشرہ میں ظہور میں آ سکتا ہے جو اتنا باشعور ہو کہ وہ اقتصادی فرق کی اس حکمت کو سمجھ سکے جو خالق نے اس کے اندر رکھی ہے۔ جو صرف حال کی بنیاد پر رائے قائم نہ کرے بلکہ وہ مستقبل کی بنیاد پر اپنی رائے بنائے۔ جو کل ملنے والی ترقی کے لئے آج کی بے ترقی پر صبر کر سکے۔ جو معاملات کو انسانیت کے نقطۂ نظر سے دیکھے نہ کہ محدود طور پر صرف اپنی ذات کے نقطۂ نظر سے۔

جمہوری نظام کے اس مسئلہ کا حل صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ عوام کو زیادہ سے زیادہ تعلیم یافتہ بنایا جائے۔ تعلیم انسان کو باشعور بناتی ہے۔ اور باشعور آدمی اس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ وہ معاملات کو زیادہ گہرائی کے ساتھ سمجھے، وہ استحصالی لیڈروں کے نعروں کے فریب میں نہ آئے۔ وہ حقیقی اقتصادی منصوبہ اور جذباتی نعروں کے درمیان فرق کر سکے۔ وہ چیزوں کو ان کے ظاہر (face value) پر نہ لے بلکہ وہ ان کا تجزیہ و تحلیل کر کے گہری بنیادوں پر رائے قائم کر سکے۔

کسی سماج میں جب کوئی گہرا ترقیاتی عمل شروع کیا جائے تو فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ وہ لوگ اس کا زیادہ فائدہ حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں جو پہلے سے تعلیم پائے ہوئے ہوں، جنھوں نے پہلے سے ادارے قائم کر رکھے ہوں، جن کے یہاں پہلے سے صحت مند روایتیں چلی آ رہی ہوں۔ مگر یہ صرف ایک وقتی معاملہ ہوتا ہے۔ جب ترقی کا سفر آگے بڑھتا ہے تو فطرت کے عوامل ظاہر ہوتے ہیں جو مختلف طریقوں سے ترقی کے مواقع کو عام بنانا شروع کرتے ہیں۔ اس طرح جلد ہی ایسا ہوتا ہے کہ کھوئے ہوئے لوگ پانے لگتے ہیں اور جو لوگ پائے ہوئے ہوتے ہیں وہ کھونے والے بن جاتے ہیں۔

ضرورت ہے کہ ترقیاتی عمل شروع کرنے کے ساتھ ہی سماج کو باشعور بنانے کا عمل بھی شروع کر دیا جائے۔ اس کے بغیر کسی جمہوری سماج میں قابل بقا ترقی ممکن نہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ ہر بڑی ترقی صبر کی قیمت چاہتی ہے۔ خواہ فرد کی ترقی کا معاملہ ہو یا سماج کی۔

‹ Previous page Next page › Contents of July 2004 All issues

Printed page