Books act like soap for the mind
الرسالہ، جولائی ۲۰۰۴، صفحہ ۴۲
ترقی کا معاملہ، ہر ایک کو صبر کا ثبوت دینا پڑتا ہے۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ کوئی فرد یا کوئی سماج کسی بڑی ترقی کی منزل تک پہنچ سکے۔
میں اس سے پہلے کئی بار ناگپور گیا ہوں۔ مگر ایک بات کا مجھے اب تک اندازہ نہ ہوسکا تھا۔ اس بار اس کو دیکھنے کا موقع ملا۔ وہ یہ کہ ناگپور میں وہاں کے مسلمانوں کا ایک ایجوکیشنل ایمپائر موجود ہے۔ انجمن حامی اسلام کے تحت قائم شدہ بڑے بڑے تعلیمی ادارے اس کا حصہ ہیں۔ اس انجمن کے موجودہ صدر جناب جسٹس ایم ایم قاضی ہیں۔ یہ سب چیزیں بلاشبہ خوشی کا باعث تھیں۔
ناگپور کی انجمن حامی اسلام آزادی سے پہلے قائم ہوئی۔ اس انجمن کے پاس کافی زمینیں ہیں۔ مگر پہلے اس کے تحت زیادہ کام نہ ہوسکا تھا۔ پھر جسٹس ایم ایم قاضی اس کے چیئر مین منتخب ہوئے۔ جسٹس قاضی نہایت اعلیٰ صلاحیتوں کے مالک ہیں۔ انھوں نے اس انجمن کو پھر سے منظم کیا۔ اس کے کاموں کو زیادہ بہتر بنایا۔ یہاں نئے ادارے اور کالج قائم کئے۔ ان ترقیوں کے بعد اب وہ ایک قسم کا تعلیمی ایمپائر بن چکا ہے۔ اس کو میں نے دیکھا۔ آج کل وہاں ایک بہت بڑا انجینئرنگ کالج تعمیر ہورہا ہے۔ ایک اور قابل ذکر چیز جو میں نے اس سفر میں پائی وہ عبدالسلام اکبانی صاحب کی فیملی تھی۔ میں نے پایا کہ ان کی فیملی میں ساس اور بہو جیسے جھگڑے نہیں ہیں۔ ان کی فیملی ایک پرسکون فیملی ہے۔ ان کی اہلیہ سے میں نے پوچھا کہ کامیاب خاندانی زندگی کا راز کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ: صبر و برداشت۔ میں سمجھتا ہوں کہ کامیاب خاندانی زندگی گزارنے کے لئے یہی واحد کارگر فارمولا ہے۔ میں نے پوچھا کہ آپ کے گھر میں ساس اور بہو جیسے مسئلے پیدا ہوتے ہیں یا نہیں ۔ انھوں نے کہا کہ پیدا ہوتے ہیں مگر ہم یک طرفہ خاموشی سے اُس کو ختم کر دیتے ہیں۔
ایک انگریزی تعلیم یافتہ خاتون سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ ان کی ازدواجی زندگی پرسکون نہیں۔ ان کے اور ان کے شوہر کے درمیان اکثر جھگڑے ہوتے رہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ اس کی کوئی مثال بتائیے۔ انھوں نے بتایا کہ کل ایسا ہوا کہ میں اپنا کپڑا پریس کرنے لگی۔ اسی کمرہ میں ہمارے شوہر کا کمپیوٹر رکھا ہوا ہے۔ وہ اپنے کمپیوٹر میں مشغول تھے۔ انھوں نے مجھ سے کہا کہ اس
‹ Previous page Next page › Contents of July 2004 All issues