Al-Risala · August 2004 · page 38

تاریخ پرستی

الرسالہ، اگست ۲۰۰۴، صفحہ ۳۸

تاریخ پرستی

پچھلی قوموں کی تاریخ دیکھی جائے تو معلوم ہوگا کہ ہر قوم کا یہ حال ہوا کہ اس نے ماضی کے پیغمبر کو مانا مگر اس نے اپنے ہم زمانہ پیغمبر کا انکار کر دیا۔ مثلاً یہودی حضرت موسیٰ کو مانتے تھے مگر جب حضرت مسیح آئے تو انھوں نے مسیح کو ماننے سے انکار کر دیا۔ اسی طرح عیسائیوں نے حضرت مسیح کو مانا مگر انھوں نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ماننے سے انکار کر دیا۔ یہی تقریباً قوموں کی گمراہی کا حال رہا ہے۔

یہی قوموں کا اصل امتحان ہوتا ہے۔ ہر قوم اسی نفسیات میں مبتلا رہتی ہے۔ ہر قوم کا امتحان یہ ہے کہ وہ اپنی اس نفسیات سے باہر آئے، وہ اس معاملہ میں اپنی کنڈیشنگ کو توڑے، وہ مصلحین کو ان کے جوہر (merit) کی بنیاد پر پہچانے، نہ یہ کہ وہ ماضی سے تعلق رکھتے ہیں یا حال سے۔ موجودہ مسلمان بھی مکمل طور پر اسی کمزوری میں مبتلا ہیں۔ وہ اپنے ماضی کے اکابر کی خوب تعریف کرتے ہیں، ان پر سیمینار کرتے ہیں، ان پر مضامین اور کتابیں شائع کرتے ہیں۔ ان کے نام پر ادارے بناتے ہیں، وہ بڑے بڑے القاب کے بغیر ان کا نام نہیں لینے۔ مگر یہی مسلمان حال کے مصلحین کو رد کر دیتے ہیں۔ وہ اپنے معاصر دعاة اور مصلحین کو حقیر سمجھتے ہیں۔ وہ ان کا ساتھ دینے کے بجائے ان کو بدنام کرتے ہیں۔ یہی نفسیات مسلمانوں کی بربادی اور ناکامی کا اصل سبب ہے۔ مسلمان جب تک اپنے آپ کو اس نفسیات سے باہر نہیں لائیں گے ان کو نہ خالص سچائی ملے گی اور نہ حقیقی معنوں میں کوئی بڑا کام کر سکیں گے۔

خدا پرست انسان وہ ہے جو اس قسم کی نفسیات سے بلند ہو۔ خدا پرست آدمی کسی انسان کو اُس کی میرٹ کی بنیاد پر پہچانتا ہے، نہ کہ تاریخی روایات کی بنیاد پر۔ خدا پرست آدمی کی نظر معانی پر ہوتی ہے اور تاریخ پرست آدمی کی نظر صرف ظواہر پر۔ خدا پرست انسان چیزوں کو خدا کی نسبت سے دیکھتا ہے، اور غیر خدا پرست انسان چیزوں کو غیر خدا کی نسبت سے۔

‹ Previous page Next page › Contents of August 2004 All issues

Printed page