Religions in the Indic Civilisation
الرسالہ، اگست ۲۰۰۴، صفحہ ۴۴
مرکز کے خیالات جاننا چاہتے تھے۔ انہوں نے اپنے ٹی وی چینل کے لیے صدر اسلامی مرکز کی ایک تاک ویڈیو پر ریکارڈ کی۔ یہ پوری تاک انگریزی میں تھی اور تقریباً ڈیڑھ گھنٹہ جاری رہی۔ اس میں عصر حاضر کے حوالہ سے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں تفصیلی اظہار خیال کیا گیا۔ ٹیم کے افراد نے اس کوئسن کر بہت زیادہ پسندیگی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس پوری تاک کے ویڈیو کیسٹ کی کاپی تیار کر کے وہ اسلامی مرکز کے لیے روانہ کریں اور اُس کو ایڈٹ کر کے اپنے ٹی وی چینل پر نشر کریں گے۔
۲۰۔ روزنامہ راشٹریہ سہارا (نئی دہلی) کے نمائندہ مسٹر ودود ساجد نے ۱۵ جنوری ۲۰۰۳ کو ٹیلی فون پر صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ یہ انٹرویو زیادہ تر بابری مسجد کے مسئلہ پر تھا۔ اس سلسلہ میں مختلف حوالوں کی روشنی میں تفصیل کے ساتھ بتایا گیا کہ اس معاملہ میں مسلمانوں کو حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کرنا چاہیے۔ ۱۹۳۹ سے لے کر اب تک اس سلسلہ میں جو کوششیں کی گئیں وہ سراسر بے نتیجہ رہیں۔ اس لیے اب اس معاملہ میں از سر نو نئی پالیسی بنانے کی ضرورت ہے، ایسی پالیسی جو نتیجہ کو سامنے رکھ کر بنائی گئی ہو۔
۲۱۔ دور درشن (نئی دہلی) میں ۱۹ جنوری ۲۰۰۳ کو ایک خصوصی پروگرام ریکارڈ کیا گیا جو ۲۵ جنوری کو دور درشن پر نشر کیا گیا۔ اس کے تحت دور درشن کے اسٹوڈیو میں ایک اجتماع کیا گیا۔ اس میں اسٹیج پر اینکر کے علاوہ وشنو ہری ڈالیا (چیرمین دشو ہندو پریشد) اور صدر اسلامی مرکز کو بٹھایا گیا تھا۔ سامنے کی بنچوں پر تقریباً چالیس کی تعداد میں مسلمان موجود تھے۔ اس پروگرام کا موضوع یہ تھا، عقیدہ کا تعلق عدالت سے ہے یا نہیں۔ اینکر کی طرف سے اور حاضرین کی طرف سے بہت سے سوالات کیے گئے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر اسلامی مرکز نے کہا کہ اجودھیا کے نزاعی معاملہ کے دو پہلو ہیں۔ ایک یہ کہ رام بھگوان کے اوتار تھے۔ یہ بلاشبہ ایک عقیدہ کا مسئلہ ہے۔ اس میں عدالت کو دخل دینے کا کوئی اختیار نہیں۔ مگر جب یہ کہا جائے کہ رام اجودھیا کے فلاں مخصوص مقام (spot) پر پیدا ہوئے تو یہ تاریخ کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ اب عدالت کو یہ حق حاصل ہو جاتا ہے کہ وہ اس نزاع کا فیصلہ تاریخی شہادتوں کی بنیاد پر اُس کی بابت فیصلہ دے، اس سے قطع نظر کہ وہ کس کے خلاف ہے اور کس کے موافق۔
۲۲۔ ترکی کی باسفورس یونیورسٹی (استنبول) کے طلبہ کا ایک وفد ۷ فروری ۲۰۰۳ کو اسلامی مرکز میں آیا۔ اس کے قائد پروفیسر مارک لنڈلے (Mark Lindley) تھے۔ یہ لوگ جدید سیاق میں اسلام کو سمجھنا چاہتے تھے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے صدر اسلامی مرکز سے تفصیلی گفتگو کی ۔ ان کے سوالات کا جواب قرآن و حدیث کی روشنی میں دیا گیا۔ مثلاً ان کا خیال تھا کہ جدید حالات میں اسلام کے قانون پر نظر ثانی کی جائے تا کہ اس کو جدید تقاضوں کے مطابق بنایا جا سکے۔ موجودہ زمانہ میں اس نسبت سے جو غلط فہمیاں پیدا ہو گئی ہیں وہ اسلام کی غلط تشریح کے نتیجہ میں پیدا ہوئی ہیں۔ اسلام کو براہ راست قرآن و حدیث کی روشنی میں دیکھا جائے تو یہ غلط فہمیاں بے بنیاد ثابت ہوں گی۔
‹ Previous page Next page › Contents of August 2004 All issues