Al-Risala · September 2004 · page 54

عرب امارات کا سفر

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۵۴

اس مضمون میں ایک بات یہ بتائی گئی تھی کہ آج کے انڈیا میں سب سے زیادہ بڑھتا ہوا بزنس انٹرٹینمنٹ (entertainment) کا بزنس ہے۔ باصلاحیت لوگ تیزی سے دوسرے شعبوں سے نکل کر اس بزنس میں آ رہے ہیں۔ پریتم نندی نے جرنلزم کو چھوڑ کر فلم پروڈیوسنگ کا کام شروع کر دیا ہے۔ انھوں نے ایک کمپنی بنائی ہے جس کا نام یہ ہے:

پریتم نندی کمیونیکیشنز (Pritish Nandy Communications)

اس رجحان کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ ہندوستان میں تیزی سے ایسا ہو رہا ہے کہ عوام اب بھی غریب ہیں لیکن ایک محدود طبقہ کے پاس بہت زیادہ دولت آ گئی ہے۔ ان لوگوں کا حال یہ ہے کہ اپنی تمام ذاتی ضرورتوں کو تعیش کی حد تک پورا کرنے کے بعد بھی ان کے پاس بہت زیادہ دولت بچ جاتی ہے۔ اس فاضل دولت کا ایک استعمال یہ تھا کہ اس کو اجتماعی فلاح کے کاموں میں خرچ کیا جائے، مگر لوگوں کے اندر چونکہ اس قسم کا انسانی جذبہ موجود نہیں اس لئے ان کے پاس اس فاضل دولت کا ایک ہی استعمال رہ جاتا ہے اور وہ یہ کہ وہ اس کو تفریح کے کاموں میں خرچ کریں۔ یہ وہی چیز ہے جس کو قرآن میں خوش حالی کے بعد فسق کرنا بتایا گیا ہے۔ (الاسراء۱۶)

سوا تین گھنٹہ کی پرواز کے بعد ہمارا جہاز دبئی کے ہوائی اڈہ پر اترا۔ جہاز سے باہر آتے ہی دو آدمی مرحبا سروسز (Marhaba Services) کا بینر لئے ہوئے کھڑے تھے۔ دبئی کے ائر پورٹ پر یہ ایک خصوصی انتظام ہے۔ یہاں مرحبا کے نام سے ایک مستقل سروس قائم ہے۔ یہ لوگ پروفیشنل طور پر یہ خدمت انجام دیتے ہیں کہ جو لوگ ان سے ربط قائم کرتے ہیں وہ ان کے مہمان کو ہوائی جہاز کے دروازہ ہی پر ریسیو (receive) کرتے ہیں اور پھر ائر پورٹ کے سارے مراحل سے گزر کرا ن کوان میزبانوں تک پہنچا دیتے ہیں جو ائر پورٹ کے باہر ان کے انتظار میں کھڑے ہوتے ہیں۔ مرحبا سروسز خود ائر پورٹ کا ہی ایک شعبہ ہے۔

مرحبا والوں کی رہنمائی میں ائر پورٹ سے باہر آیا تو یہاں حسب ذیل لوگ موجود تھے: ڈاکٹر فرحت نسیم ہاشمی، مسٹر شکیل احمد خاں، ڈاکٹر وسیم، یسمین خاکوانی، قدسیہ سید، عاطف اقبال، ربابہ

‹ Previous page Next page › Contents of September 2004 All issues

Printed page