Al-Risala · September 2004 · page 55

عرب امارات کا سفر

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۵۵

عبد الرحمن، سمیر صمدانی، ڈاکٹر محمد ادریس زبیر، سعدیہ الطاف، نازیہ الطاف، کرن، وغیرہ۔ ائر پورٹ سے روانہ ہو کر دبئی کے ہوٹل رالا ریذیڈنس (Rolla Residence) میں پہنچا۔ یہاں کمرہ نمبر ۵۱۱ میں میرا قیام تھا۔ ائر پورٹ سے ہوٹل تک کا سفر کرتے ہوئے دبئی کا ایک منظر دیکھنے کا موقع ملا۔ دبئی کا ائرپورٹ دنیا کے چند بہترین ائر پورٹ میں شمار ہوتا ہے۔ وہ انتہائی منظم، انتہائی خوبصورت، اور بے حد وسیع تھا۔ اس کی ہر چیز نہایت شاندار تھی۔ اس کے مقابلہ میں دہلی کا اندرا گاندھی انٹر نیشنل ائر پورٹ معمولی نظر آتا ہے۔ یہ احساس اس وقت ہوا جب کہ میں ائرپورٹ سے روانہ ہوا اور دبئی کے مختلف حصوں سے گزرتے ہوئے ہوٹل تک پہنچا۔

ہندوستان کے مقابلہ میں دبئی ایک بے حد چھوٹا ملک ہے۔ دبئی کا کل رقبہ ۹۰۰ مربع کلومیٹر ہے جب کہ ہندوستان کا رقبہ ۳۲۶۸۰۹۰ مربع کلومیٹر ہے۔ لیکن دبئی کا شہر ہندوستان کے شہروں سے بہت زیادہ ترقی یافتہ نظر آیا۔ دونوں ملکوں کے درمیان سب سے بڑا فرق دو چیزوں میں ہے۔ ایک کرپشن اور دوسرا انفراسٹرکچر۔

دبئی ایک چھوٹی ریاست ہے۔ وہ عرب امارات کی سات ریاستوں میں سے ایک ریاست ہے۔ خلیج فارس کی طرف اس کا ساحلی رقبہ ۴۵ میل ہے۔ دبئی شہر عرب امارات کا سب سے بڑا شہر ہے۔ ریاست کی آبادی کا تقریباً ۹۰ فی صد سے زیادہ حصہ اس شہر میں رہتا ہے۔ دبئی کی آبادی کاری ۱۷۹۹ میں شروع ہوئی۔ اس کے بعد ۱۸۲۰ میں دبئی کے شیخ نے انگریزوں کی سرپرستی میں قائم شدہ جنرل ٹریٹی آف پیس (General Treaty of Peace) پر دستخط کئے۔ اس کے بعد سے دبئی کی وہ ترقی شروع ہوئی جو آج اپنے نقطہ عروج پر پہنچ چکی ہے۔

۱۷۹۹ وہ تاریخی سال ہے جب کہ ہندوستان کے سلطان ٹیپو نے انگریزوں سے لڑتے ہوئے اپنی جان دے دی تھی۔ ان کے نزدیک انگریز ایک مسلم دشمن قوم کی حیثیت رکھتے تھے۔ مگر اسی مسلم دشمن قوم کی سرپرستی میں دبئی نے اتنی زیادہ ترقی کی کہ آج ہر مسلمان یہ کہتے ہوئے فخر محسوس کرتا ہے کہ میرا بیٹا دبئی میں ہے یا میرے داماد دبئی میں کام کر رہے ہیں۔ اس دنیا میں ترقی کا راز ایڈجسٹمنٹ ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2004 All issues

Printed page