عرب امارات کا سفر
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۵۶
مگر سلطان ٹیپو سے لے کر یاسر عرفات تک تمام مسلم رہنما زندگی کی اس حقیقت سے بے خبر رہے۔ دبئی کی تاریخ ۱۷۹۹ سے شروع ہوتی ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جب کہ برطانیہ کے نو آباد کار لوگ اس علاقہ میں پہنچے۔ ۱۸۲۰ میں برٹش طاقتوں کے ساتھ دبئی کا معاہدہ امن ہوا۔ ۱۸۳۵ میں دبئی نے انگریزوں کے ساتھ بحری معاہدہ پر دستخط کئے ۔ ۱۸۵۳ میں اس معاہدہ کی دوبارہ توثیق ہوئی۔ ۱۸۹۲ کے معاہدہ کے تحت دبئی کے خارجہ تعلقات پر انگریزوں کا کنٹرول قائم ہو گیا۔ ۱۹۷۱ میں جب انگریزوں نے خلیج فارس کو چھوڑا تو دبئی عرب امارات کا ایک بانی ممبر (founding member) بن چکا تھا۔
دبئی میں تیل کی دولت زیادہ نہ تھی۔ چنانچہ دبئی کے شیخ نے دبئی کو تجارتی حیثیت سے ترقی دینا شروع کیا۔ بیسویں صدی کے شروع میں دبئی ایک اہم ائیر پورٹ بن چکا تھا۔ بہت سے غیر ملکی تاجر، خاص طور پر ہندوستانی تاجر، دبئی میں مقیم ہو گئے ۔ ۱۹۳۰ اور اس کے بعد تک دبئی موتیوں کی برآمد کے لئے مشہور تھا۔ مگر بعد کو دبئی مغربی مصنوعات کے لئے سب سے بڑا بندرگاہ بن گیا۔ عرب امارات کے اکثر بینکوں اور انشورنش کمپنیوں کی ہیڈ کوارٹر دبئی میں واقع ہیں۔ دبئی میں فری ٹریڈ کا اصول اختیار کیا گیا ہے اور یہی اس کی ترقی کا سب سے بڑا سبب ہے۔
دبئی کو نہایت اعلیٰ درجہ پر موڈرنائز کیا گیا ہے۔ یہاں بجلی، جدید ہوٹل، ٹیلی کمیونی کیشن، اسپتال اور انٹر نیشنل ائر پورٹ وغیرہ اس کی نمایاں مثالیں ہیں۔ ۱۹۷۲ میں یہاں گہرے پانی والی بندرگاہ (deep water harbour) بنائی گئی ہے۔ اس کی وجہ سے بحری جہاز رانی کو بہت زیادہ ترقی حاصل ہوئی ہے۔ دبئی کے ساحلی علاقہ کو پاٹ کر اس کے رقبہ کو کافی بڑھا لیا گیا ہے۔ شام کو ہوٹل کے کمرہ میں کئی لوگ اکٹھا ہو گئے۔ ڈاکٹر فرحت ہاشمی، مسٹر عاطف سعید، قدسیہ سید، ربابہ عبدالرحمن، وغیرہ وغیرہ۔ ان لوگوں سے دیر تک باتیں ہوتی رہیں۔ یہ لوگ الہدی انٹر نیشنل کے تحت بہت بڑا کام کر رہے ہیں۔
ہوٹل موجودہ زمانہ میں ایک عظیم انڈسٹری کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ قدیم زمانہ میں ہوٹل
‹ Previous page Next page › Contents of September 2004 All issues