Al-Risala · September 2004 · page 57

عرب امارات کا سفر

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۵۷

کی جگہ وہ چیز ہوا کرتی تھی جس کو سرائے کہا جاتا تھا۔ یہ سرائے صرف وقتی پڑاؤ کے لئے ہوتی تھی۔ اس میں جدید سہولتیں نہیں ہوتی تھیں۔ انیسویں صدی کے آخر میں جب انسان نے پانی کو اسٹیم پاور میں تبدیل کیا اور اسٹیم انجن سے چلنے والی ریلیں دوڑنے لگیں تو اس کے بعد ہوٹل کی صنعت میں بھی ترقی شروع ہوئی ۔ یہ ہوٹل ریلوے اسٹیشن کے قریب ہوا کرتے تھے۔ اس کے بعد پٹرول کی طاقت دریافت ہوئی اور موٹر کار اور ہوائی جہاز چلنے لگے تو ہوٹل کی صنعت میں مزید ترقی ہوئی۔ اب ہوٹل کا تصور صرف وقتی پڑاؤ کے معنی میں نہیں ہے۔ آج کے ایک ہوٹل میں وہ تمام جدید انتظامات موجود ہوتے ہیں جو زندگی کی اعلیٰ سرگرمیوں کے لئے مددگار ہیں۔ آج ہوٹل کی انڈسٹری نے ہر انسان کے لئے اس چیز کو ممکن بنا دیا ہے جس کو قدیم زمانہ کے فارسی شاعر نے استثنائی طور پر صرف کسی خوش قسمت دولت مند کے لیے ممکن بتایا تھا۔

منعم به کوہ و دشت و بیاباں غریب نیست ہر جا کہ رفت خیمہ زد و بارگاہ ساخت میرا سفر الہدیٰ انٹرنیشنل کی دعوت پر ہوا۔ الہدیٰ انٹرنیشنل والوں کا کام خاص طور پر تعلیم اور دعوت کے میدان میں ہو رہا ہے۔ ایک خاتون ربابہ عبدالرحمن جو بنگلہ دیش سے تعلق رکھتی ہیں وہ بھی یہاں کے پروگرام میں شرکت کے لئے خصوصی طور پر آج ہی ہوائی جہاز کے ذریعہ دہلی پہنچی تھیں۔ وہ بنگلہ دیش کے سب سے بڑے انڈسٹریل ہاؤس سے تعلق رکھتی ہیں۔ بنگلہ دیش کی امیر ترین خاتون ہونے کے باوجود اُن کی زندگی بالکل سادہ تھی۔ انہوں نے میری انگریزی کتابیں پڑھی ہیں۔ ایک مسئلہ کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ جب بھی کوئی اصلاح کا کام کیا جائے، خاص طور پر جب کہ وہ گہری بنیادوں پر کیا جا رہا ہو تو میڈیا میں اس کا چرچایقینی ہے۔ میڈیا کے مزاج کے مطابق ، یہ چرچا تقریباً ہمیشہ منفی انداز سے ہوتا ہے۔ اصلاح و دعوت کے میدان میں کام کرنے والے مردوں اور عورتوں کو چاہئے کہ وہ میڈیا کی اس منفی رپورٹنگ کی پروانہ کریں۔ منفی رپورٹنگ کے اندیشہ کی بنا پر وہ ایسا نہ کریں کہ میڈیا سے اعراض کرنے لگیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں ہر مائنس پوائنٹ کا ایک پلس پوائنٹ ہوتا ہے۔ یہی حال میڈیا کا بھی ہے۔ میڈیا کی ناقص رپورٹنگ پھر بھی ایک

‹ Previous page Next page › Contents of September 2004 All issues

Printed page