عرب امارات کا سفر
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۵۸
مفید کام کرتی ہ۷ اور وہ آپ کے کام کی پبلسٹی ہے۔ پبلسٹی کے بغیر کوئی بھی کام آگے نہیں بڑھ سکتا۔ پبلسٹی لوگوں کے اندر تجسس پیدا کرتی ہے اور تجسس پیغام کے اشاعت کا ذریعہ بنتا ہے۔ ۶ مئی کی صبح کو فجر کی نماز ہوٹل میں پڑھی۔ میں نے اپنے کمرہ کے ائر کنڈیشنر کو بند کر کے کمرہ کی بڑی کھڑکی کو کھول دیا۔ باہر سے ہوا کے خوشگوار جھونکے کمرہ کے اندر داخل ہونے لگے۔ یہ جھونکے گویا خدا کی قدرت کو یاد دلا رہے تھے۔ تازہ ہوا ایک ایسی عجیب و غریب چیز ہے کہ اس میں زندہ شعور کے ساتھ سانس لینا بھی ایک عبادتی تجربہ کے ہم معنی ہے۔ میں نے سوچا کہ کیسے عجیب ہیں وہ لوگ جو ائرکنڈیشنڈ کمروں کی مصنوعی دنیا میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ حالاں کہ عین ان کمروں کے باہر فطرت کی زیادہ بہتر دنیا ان کے لئے پوری طرح موجود ہوتی ہے۔
۶ مئی کی صبح کو ے بجے ہوٹل کے مطعم میں اپنے میزبانوں کے ہمراہ ناشتہ کیا۔ اس کی ایک طرف کی پوری دیوار میں بڑے بڑے شیشے لگے ہوئے تھے۔ اس بنا پر ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے کہ ہم لوگ کھلے مطعم میں فطرت کی دنیا میں بیٹھے ہوئے ہیں۔
ناشتہ کے بعد دوبارہ میرے کمرے میں ایک طویل نشست ہوئی جس میں الہدیٰ انٹرنیشنل کے لوگ شریک ہوئے۔ جدید حالات کی نسبت سے اسلام اور مسلمانوں پر گفتگو ہوتی رہی۔ ایک خاتون نے کہا کہ اولاد کی اسلامی تربیت کے لئے کیا کیا جائے۔ کیوں کہ آج کل کی تعلیم اور ماحول بچوں کو بگاڑنے کا کام کر رہے ہیں۔ میں نے کہا کہ اکثر والدین اس قسم کی شکایت کرتے ہیں۔ مگر میرے نزدیک بچوں کے بگاڑ کا سب سے بڑا سبب خود ان کے والدین ہیں۔ یہ دراصل خود والدین کا لاڈ پیار (pampering) ہے جس نے بچوں کو بگاڑ رکھا ہے۔ میں نے کہا کہ بچوں کی تربیت کے لئے سب سے زیادہ مؤثر چیز والدین کی ہیمرنگ (hammering) ہے۔ یہ ہیمرنگ کامل شفقت سے ہوتی ہے اس لئے وہ ہمیشہ مثبت تاثیر کا ذریعہ بنتی ہے۔ مگر والدین اس پر عمل نہیں کر پاتے۔ وہ بچوں کی ہر خواہش پوری کرتے رہتے ہیں۔ اور اس کے بعد دوسروں کو الزام دے کر کہتے ہیں کہ میرا بچہ فلاں خار جی اسباب کی بنا پر بگڑ گیا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2004 All issues