Al-Risala · September 2004 · page 59

عرب امارات کا سفر

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۵۹

میرے اور میرے ساتھی کے سفر کا پورا اسپانسر شپ (sponsorship) دبئی کے ایک تاجر شیخ عبدالرحمن الشرفی نے کیا تھا۔ وہ ۶ مئی کی دوپہر کو ملاقات کے لئے آئے۔ ان سے دیر تک باتیں رہیں۔ گفتگو کے دوران انھوں نے کہا کہ میں دعوت کا کام کرتا ہوں اور اس مقصد کے لئے اسلامی کتابیں غیر مسلموں کو دیتا رہتا ہوں ۔ مگر ابھی تک اس کا کوئی خاص اثر سامنے نہیں آیا۔ حاضرین سے ایک خاتون نے کہا کہ آپ جن لوگوں کو کتابیں دیتے ہیں، کیا آپ ان لوگوں کے لیے دعا بھی کرتے ہیں۔ انھوں نے عربوں کے مخصوص سادہ انداز میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ نہیں: I have not prayed for them. وہ عربی کے علاوہ اچھی انگریزی زبان بھی جانتے تھے۔ شیخ عبدالرحمن الشرفی نے بتایا کہ انھوں نے راقم الحروف کی کتاب گاڈ ارائز ز (God Arises) بڑی تعداد میں منگوا کر تعلیم یافتہ مسلمانوں اور غیر مسلموں میں تقسیم کیا ہے۔

دہلی کا انگریزی اخبار خلیج ٹائمس کا شمارہ ۶ مئی ۲۰۰۴ دیکھا۔ اس کے صفحہ ۳ پر ایک خبر تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ شارجہ کی حکومت ایسے اقدامات کر رہی ہے جو ماحولیات کو بگڑنے سے بچانے والے ہوں۔ اس خبر کا عنوان یہ تھا — شارجہ ایکو فرینڈلی پروجیکٹ چلانے والا ہے: Sharjah to launch eco-friendly project آج کل ایکو فرینڈلی منصوبوں کا بہت چرچا ہے۔ خود مسلم ملکوں میں بھی اس کی کافی دھوم ہے۔ میں نے سوچا کہ اس سے بھی زیادہ ضروری کام یہ ہے کہ مدعو فرینڈلی منصوبے جاری کئے جائیں۔ مگر ساری دنیا میں نہ کوئی مسلم حکومت، نہ کوئی مسلم گروہ اس قسم کی بات سوچنے کے لئے تیار ہے۔ مسلمانوں نے برعکس طور پر ایسے ہنگامے جاری کر رکھے ہیں جو مدعو کو دشمن بنائے ہوئے ہیں۔ مگر مدعو کو دوست بنانے کی شعوری کوشش پوری مسلم دنیا میں کہیں نظر نہیں آتی۔ حالاں کہ مسلم دنیا میں اگر ایکو فرینڈلی منصوبہ نہ چلایا جائے تو اس سے مسلمانوں کی صرف دنیا خطرہ میں پڑے گی ۔ جب کہ مدعو فرینڈلی منصوبہ نہ چلانے کی صورت میں یہ شدید تر اندیشہ موجود ہے کہ ان کی آخرت خطرے میں پڑ جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2004 All issues

Printed page