We are always Mad‘u friendly
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۶۰
ڈاکٹر فرحت نسیم ہاشمی یک اعلیٰ تعلیم یافتہ خاتون ہیں۔ وہ ایک یونیورسٹی میں استاد تھیں اور اب وہ یونیورسٹی کو چھوڑ کر تعلیم و دعوت کا کام کر رہی ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ انھوں نے میری تقریباً ساری کتابیں بار بار پڑھی ہیں۔ ان کو میرے خیالات سے پورا اتفاق ہے۔ وہ نہایت باصلاحیت خاتون ہیں۔ انھوں نے اپنے آپ کو پوری طرح دعوت کے کام کے لئے وقف کر دیا ہے۔ ڈاکٹر فرحت اور ان کے شوہر پروفیسر ادریس اسلام آباد کی یونیورسٹی میں اُستاد تھے۔ دونوں نے یونیورسٹی کی سروس سے استفادہ کرالہدیٰ انٹرنیشنل کا کام شروع کیا۔ یہ تنظیم اب ماشاء اللہ ایک مقبول تنظیم بن چکی ہے۔ لوگ بڑی تعداد میں اس کے ساتھ وابستہ ہوتے جارہے ہیں۔ ڈاکٹر فرحت کے آڈیو کیسٹ کافی دلچسپی کے ساتھ سنے جاتے ہیں۔
۶ مئی کو دوپہر بعد سے لے کر شام تک دوبارہ میرے کمرے میں نشست ہوئی۔ اس میں خواتین کی تعداد کچھ اور بڑھ گئی تھی۔ میں نے ہر ایک سے اسلام کے بارے میں اس کے خیالات جاننے کی کوشش کی اور پھر آخر میں اپنے خیالات کا اظہار کیا۔
ایک مسئلہ کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ دعوہ ورک کوئی سادہ چیز نہیں۔ دعوہ ورک کے لئے کچھ لازمی شرطیں ہیں۔ اس میں سب سے اہم شرط یہ ہے کہ داعی اپنے مدعو کا مکمل طور پر خیر خواہ ہو۔ وہ ایک طرفہ طور پر مدعو کے ساتھ ایڈجسٹمنٹ کرے۔ حتی کہ وہ مدعو کی زیادتیوں پر صبر کرے۔ میں نے کہا کہ داعی اور مدعو کا رشتہ اسی قسم کا ایک رشتہ ہے جیسا کہ تاجر اور کسٹمر کے درمیان ہوتا ہے۔ ہر تاجر جانتا ہے کہ اس کو اپنے کسٹمر کے ساتھ آخری حد تک خیر خواہی کا معاملہ کرنا ہے۔ داعی کا فارمولا تاجر کی طرح یہ ہونا چاہئے:
We are always Mad‘u friendly
مغرب کی نماز کے بعد لوگ دوبارہ میرے کمرہ میں جمع ہوگئے۔ دیر تک گفتگو کا سلسلہ جاری رہا۔ اس مجلس میں میں نے چند مسئلوں کی وضاحت کی۔ مثلاً یہ کہ اسلام کے مطابق، اصلاح کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ پہلے شعوری بیداری، اور اس کے بعد تنفیذ احکام۔ اس کے بجائے تنفیذ احکام سے
‹ Previous page Next page › Contents of September 2004 All issues