We are always Mad‘u friendly
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۶۱
اسلامی تحریک کا آغاز کرنا گھوڑے کے آگے گاڑی باندھنا ہے۔ ایسے سفر کا کوئی انجام نہیں ہوسکتا۔ اسی طرح فقہی اختلاف کے معاملہ میں میں نے کہا کہ یہ اختلافات اس لیے پیدا ہوئے کہ خود صحابہ کی روایت کردہ حدیثوں میں اختلاف موجود تھا۔ یہ اختلاف دراصل توسّع کی بنا پر تھا۔ اس کو ختم کرنے کی کوشش ایک غیر فطری روش ہے۔ فقہی اختلافات میں توحد کی کوشش انتہا پسندی ہے۔ اس سے اختلافات میں مزید شدت پیدا ہوتی ہے۔ جب کہ ان اختلافات کو توسّع اور تنوع پر محمول کرنا اختلافات کے مسئلہ کو ختم کر دیتا ہے۔ اس موضوع کی تفصیل میری کتاب تجدید دین میں دیکھی جاسکتی ہے۔
دبئی کے لئے میرا یہ سفر ایک الگ نوعیت کا سفر تھا۔ عام طور پر میرا سفر کانفرنسوں میں شرکت کے لئے ہوتا ہے۔ مگر دبئی میں ایسی کوئی نیشنل یا انٹرنیشنل کانفرنس نہ تھی۔ اس سفر کی نوعیت یہ تھی کہ یہاں لمبے عرصے سے میری کتابیں پھیل رہی ہیں۔ بہت سے لوگ کتابوں کے ذریعہ ہمارے مشن سے متعارف ہوتے ہیں۔ ان میں عورتیں بھی ہیں اور مرد بھی۔ انہی لوگوں کی دعوت پر میں دبئی آیا تھا۔ یہاں زیادہ تر یہ ہوا کہ لوگ میرے کمرے میںاکھٹا ہوجاتے اور ان سے گفتگو اور سوال و جواب کا سلسلہ جاری رہتا۔ یہ لوگ میری باتوں کو مسلسل طور پر محفوظ کرتے رہے، تحریر کے ذریعہ بھی اور ٹیپ ریکارڈ ر کے ذریعہ بھی۔ یہ سب تعلیم یافتہ لوگ تھے اور بہت دھیان کے ساتھ میری باتیں سنتے تھے۔ مغرب کی نماز کے بعد دوبارہ لوگ میرے کمرے میں اکھٹا ہوگئے ۔ دیر رات تک ان سے بحث و مذاکرہ کا سلسلہ جاری رہا۔ ایک تعلیم یافتہ مسلمان جن کی پیدائش پاکستان میں ہوئی وہ اپنے بزنس کے سلسلہ میں اکثر دبئی آتے رہتے ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے پاکستان اور دبئی دونوں ملکوں کو قریب سے دیکھا ہے۔ آپ بتائیے کہ دونوں میں آپ نے کیا فرق پایا۔ انھوں نے کہا کہ دبئی میں پیس ہے مگر یہاں فریڈم نہیں۔ پاکستان میں فریڈم ہے مگر وہاں پیس نہیں۔ میں نے کہا کہ دنیا میں ۵۷ مسلم ملک ہیں۔ ہر ملک کا حال کم و بیش وہی ہے جو آپ نے دبئی کا بتایا۔ ایسی حالت میں ہندوستان ہمارے لیے ایک نعمت ہے۔ کیوں کہ ہندوستان میں بیک وقت
‹ Previous page Next page › Contents of September 2004 All issues