We are always Mad‘u friendly
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۶۲
یہ دونوں چیزیں موجود ہیں۔ وہاں پیس بھی ہے اور فریڈم بھی۔ ان کو یہ بات عجیب معلوم ہوئی۔ کیوں کہ وہ سمجھتے تھے کہ ہندوستان ایک اینٹی مسلم ملک ہے۔ وہاں مسلمان ستائے جا رہے ہیں۔ وہاں مسلمان طرح طرح کی مشکلات میں مبتلا ہیں۔ میں نے کہا کہ یہ سب میڈیا کے پروپیگنڈے ہیں۔ آپ لوگ کہتے ہیں کہ انٹرنیشنل میڈیا میں اسلام کو بگاڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔ ٹھیک یہی معاملہ ہندوستان کے ساتھ ہوا ہے۔ چنانچہ مسلم میڈیا میں ہندوستان کی تصویر بگڑی ہوئی صورت میں پیش کی جاتی ہے۔ اس کی ایک علامتی مثال یہ ہے کہ انڈیا کا مسلم سائنٹسٹ ڈاکٹر عبدالکلام انڈیا کا پریزیڈنٹ ہے۔ دوسری طرف پاکستان کا مسلم سائنٹسٹ ڈاکٹر عبدالقدیر پاکستان میں قید کی حالت میں زندگی گزار رہا ہے۔ ایک تعلیم یافتہ خاتون (قدسیہ سید) کی باتوں سے میں نے اندازہ کیا کہ ان کا حافظہ اچھا ہے اور طرح طرح کی باتیں ان کے دماغ میں موجود رہتی ہیں۔ اس بنا پر وہ اپنی زندگی میں ترجیحات (priorities) کا تعین نہیں کر پاتیں۔ میں نے کہا کہ انسانی حافظہ دو قسم کا ہوتا ہے۔ ایک وہ جس کو تصویری حافظہ (photographic memory) کہا جاتا ہے۔ اور دوسرا وہ جس کو انتخابی حافظہ (selective memory) کہا جا سکتا ہے۔ میں ماضی اور حال کے بہت سے لوگوں کو جانتا ہوں جن کے اندر تصویری حافظہ کی صلاحیت تھی۔ چنانچہ ان کا دماغ معلومات کا جنگل بن گیا۔ وہ مختلف معلومات کا انبار تو پیش کر سکتے تھے مگر تجزیہ اور تحلیل (analysis) کی صلاحیت ان میں نہیں تھی۔ چنانچہ معلومات کی فراوانی کے باوجود وہ دنیا کو کوئی واضح پیغام نہ دے سکے۔
میں نے کہا کہ میرے ساتھ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے کہ مجھے تصویری حافظہ تو نہیں دیا گیا مگر انتخابی حافظہ میرے اندر پوری طرح موجود ہے۔ مجھے اللہ کے فضل سے اپنی زندگی کی بہت سی باتیں یاد ہیں، 5 سال کی عمر سے اب تک کی ہزاروں باتیں ۔ مگر یہ تمام باتیں انتخابی انداز کی ہیں۔ دبئی میں ایک صاحب سے ملاقات ہوئی۔ وہ عربی اور انگریزی دونوں زبانیں جانتے ہیں۔ وہ دس سال سے زیادہ مدت سے لوگوں میں قرآن اور حدیث کا درس دیتے رہے ہیں۔ ان کا درس کافی مقبول ہے۔ لوگ ان کے درس کے کیسٹ تیار کر کے اپنے گھروں میں ان کو سنتے ہیں۔ وہ دبئی کے
‹ Previous page Next page › Contents of September 2004 All issues