Al-Risala · September 2004 · page 63

We are always Mad‘u friendly

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۶۳

زمانہ قیام میں برابر میری مجلسوں میں شریک رہے۔ تاہم میں دبئی میں ان سے ان کا تأثر پوچھ نہ سکا۔ ۱۵ مئی ۲۰۰۴ کو دہلی میں میرے ٹیلی فون کی گھنٹی بجی۔ ریسیور اٹھایا تو وہی صاحب دبئی سے بول رہے تھے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ وہاں آپ میری مجلسوں میں شریک رہے۔ میں نے وہاں جو کچھ کہا اس کے بارے میں آپ اپنا تاثر بتائیے۔ انھوں نے کہا کہ میں خود اگرچہ لمبی مدت سے قرآن وحدیث کی باتیں کرتا رہا ہوں۔ مگر آپ نے جس طرح قرآن وحدیث کی تشریح کی اس سے مجھے ایک نیا اورینٹیشن (orientation) ملا۔ انھوں نے کہا کہ میں اپنے آپ کو ایک حقیقت کے اعتراف پر مجبور پاتا ہوں۔

اصل یہ ہے کہ میرا پورا کام متوسط درجہ کے لوگوں کے درمیان ہوا۔ آپ ان کو عوام کہہ سکتے ہیں۔ اس بنا پر ایسا ہوا کہ میں قرآن وحدیث کی تشریح عوامی انداز میں کرنے لگا۔ آپ کی مجلسوں میں شرکت کے بعد پہلی بار مجھے شعوری طور پر یہ محسوس ہوا کہ قرآن وحدیث کی تشریح کی ایک برتر سطح بھی ہے، ایک ایسی سطح جو اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کو زیادہ اپیل کرنے والی ہو۔ میرے کام کے دوران متوسط درجہ کے لوگ تو بڑی تعداد میں مجھ سے جڑ گئے مگر اعلیٰ ذہن کے لوگ مجھ سے زیادہ قریب نہ ہو سکے۔ میں سمجھتا تھا کہ یہ متعصبانہ ذہن کا نتیجہ ہے۔ مگر آپ سے ملاقات کے بعد میری غلط فہمی دور ہوگئی۔ اصل یہ ہے کہ آپ کو خوش قسمتی سے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں میں کام کرنے کا موقع ملا اس لئے آپ کا اسلوب تشریح بھی اعلیٰ درجہ کا بن گیا۔ میں نے طے کیا ہے کہ میں اب اپنے انداز کو آپ گریڈ (upgrade) کروں گا اور قرآن وحدیث کو اعلیٰ ذہن کے لوگوں کے لئے قابل فہم بناؤں گا۔ خلیج ٹائمس کا میگزین ویکینڈ (weekend) دیکھا۔ اس پر ۶ مئی ۲۰۰۴ کی تاریخ چھپی ہوئی تھی۔ یہ ٦٦ صفحات کا خوبصورت چھپا ہوا میگزین تھا۔ اس کے لکھنے والوں میں زیادہ تر ہندوؤں کے نام تھے۔ یہ دبئی کی عام زندگی کی ایک علامتی تصویر ہے۔ دبئی میں ۵۰ فیصد سے زیادہ دوسرے ملکوں کے لوگ آباد ہیں، خاص طور پر ہندوستان اور پاکستان کے لوگ۔ یہاں تک کہ اس اختلاط کی بنا پر مقامی عرب لوگ بھی اردو سیکھ گئے ہیں۔ مگر یہ عجیب بات ہے کہ ہر شعبہ میں مسلمان نسبتاً چھوٹے

‹ Previous page Next page › Contents of September 2004 All issues

Printed page