Al-Risala · September 2004 · page 64

We are always Mad‘u friendly

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۶۴

کاموں میں ہیں اور جہاں تک بڑے بڑے کاموں کا تعلق ہے اس میں زیادہ تر ہندو لوگ چھائے ہوئے ہیں۔ اس بارے میں میں نے لوگوں سے پوچھا اور اس فرق کا سبب معلوم کرنا چاہا۔ میرے اندازے کے مطابق، اس فرق کا سبب یہ ہے کہ ہندو لوگ پروفیشنل انداز میں کام کرنا جانتے ہیں جب کہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ ابھی تک ان کے یہاں پروفیشنلزم (professionalism) کا تصور ہی شعوری طور پر نہیں آیا۔

انڈیا کے مسلمان یہ شکایت کرتے ہیں کہ انڈیا میں ’’ہندو حکومت‘‘ ہے۔ وہاں مسلمانوں کے ساتھ تعصب کیا جاتا ہے۔ اس بنا پر انڈیا کے مسلمان دوسروں سے پیچھے ہیں۔ مگر دبیٔ تو ایک مسلم ملک ہے۔ پھر کیوں ایسا ہے کہ یہاں بھی مسلمان اقتصادیات میں ہندوؤں سے پیچھے ہیں۔ اس فرق کا سبب یقینی طور پر یہ ہے کہ مسلمان بے فائدہ سیاست میں مشغول ہونے کی بنا پر اپنے آپ کو دورِ جدید کی نسبت سے تیار نہ کر سکے۔ اس لیے وہ ہر جگہ دوسروں سے پیچھے ہوگئے۔ اس فرق کا سبب خود مسلمانوں کی اپنی کمی ہے، نہ کہ دوسروں کی زیادتی۔ یہ ایک ہی سبب ہے جو ہندوستان اور غیر ہندوستان دونوں جگہوں پر پایا جاتا ہے۔

روزنامہ نوائے وقت (۶ مئی ۲۰۰۲) کے صفحہ اول پر یہ خبر تھی کہ پاکستانی مسلم لیگ کے صدر اور پنجاب کے سابق وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی اہلیہ بیگم نصرت شہباز اور ان کے بچے گزشتہ روز لندن سے ابوظبی پہنچ گئے ہیں۔ جب کہ میاں شہباز شریف نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ پی آئی اے کی کسی پرواز کے بجائے گلف ائر لائنز سے ۱۱ مئی کی شام چھ بج کر بیس منٹ پر لندن سے براستہ ابوظبی لاہور ائر پورٹ پر پہنچیں گے۔ ان کے ساتھ مختلف بین الاقوامی نشریاتی اداروں کے نصف درجن سے زائد نمائندے بھی آرہے ہیں۔ جن میں بی بی سی، سی این این اور اے آر وائی وغیرہ کے نمائندے بھی شامل ہیں۔

اسی اخبار میں لاہور کی ڈیٹ لائن کے ساتھ دوسری خبر یہ تھی کہ مسلم لیگ اور شہباز شریف سیکریٹریٹ کی جانب سے شہباز شریف کی آمد کے حوالہ سے چلو چلو ائر پورٹ چلو، کے عنوان سے

‹ Previous page Next page › Contents of September 2004 All issues

Printed page