We are always Mad‘u friendly
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۶۵
پوسٹرز اور ہینڈ بل ہزاروں کی تعداد میں چھپوا کر اس کی تقسیم شروع کردی گئی ہے۔ پوسٹرز اور ہینڈ بل کی تقسیم کے لیے خصوصی طور پر اندرون شہر کو ٹارگٹ بنایا گیا ہے۔
اس ہنگامہ خیز سفر کا متوقع انجام صرف یہ ہوا کہ مسٹر شہباز شریف جب لاہور کے ہوائی اڈہ پر پہنچے تو وہاں انہیں کسی سے ملنے نہیں دیا گیا۔ انہیں ایک خصوصی ہوائی جہاز میں بٹھا کر فوراً ہی جدہ بھیج دیا گیا۔ جب وہ جدہ ائیر پورٹ پر اترے تو وہاں ان کے استقبال کے لیے نہ کوئی پاکستانی موجود تھا اور نہ کوئی غیر پاکستانی۔ اس ڈرامائی سفر میں بہت بڑی رقم خرچ کی گئی۔ جب کہ مثبت معنوں میں اس کا کوئی بھی فائدہ نہیں ہوا۔
مجھے وہ حدیث یاد آئی جس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے دن بندہ کے قدم اس وقت تک آگے نہیں بڑھیں گے جب تک اس سے پو چھ نہ لیا جائے کہ تم نے مال کہاں سے کمایا اور اس کمائے ہوئے مال کو کہاں خرچ کیا: من این اکتسبه وفیم انفقه (الترمذی، کتاب القیامة) آدمی اگر اس ایک حدیث کو یاد رکھے تو اس کی اکثر مالی سرگرمیاں اپنے آپ رک جائیں۔ ۷ مئی ۲۰۰۴ کی صبح کو مولانا انیس لقمان ندوی سے ملاقات ہوئی۔ اُن سے بہت سے موضوعات پر گفتگو ہوئی۔ ایک سوال میں نے یہ کیا کہ سابق عراقی صدر صدام حسین کا زوال کوئی مقامی واقعہ نہ تھا۔ اس کا اثر پوری عرب دنیا پر پڑا۔ آپ خود عرب دنیا میں رہتے ہیں، مجھے بتائیے کہ اس حادثہ کے بعد عربوں کی سوچ میں کس قسم کی تبدیلی آئی ہے۔
انہوں نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ما بعد صدام کی عرب دنیا (post-Saddam (Arab world میں اب وہ الفاظ کثرت سے استعمال ہونے لگے ہیں جن کا استعمال ماقبل صدام کی عرب دنیا میں سیاسی بغاوت کے ہم معنی تھا اور جن کے بولنے والے اکثر جیل میں بند کر دیے جاتے تھے۔ مثلاً سیاسی اصلاح، جمہوری نظامِ حکومت کا قیام، حکام کے مالی اور قانونی احتساب کا مطالبہ، منتخب پارلیمنٹ کی تشکیل، عدلیہ اور قانون ساز ادارہ کی آزادی، وغیرہ وغیرہ۔ سرکاری اور غیر سرکاری اداروں میں بتدریج انتظامی شفافیت (administrative transparency) کو فروغ
‹ Previous page Next page › Contents of September 2004 All issues