We are always Mad‘u friendly
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۶۶
دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔ پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا دونوں کے ذریعہ اختلاف رائے کو برداشت کرنے اور اظہار رائے کی آزادی کو عام کرنے کی تلقین کی جارہی ہے۔ اگر چہ اس کا آغاز واضح طور پر ۱۱ ستمبر ۲۰۰۱ کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے واقعہ کے معا بعد ہو چکا تھا۔ مگر عراق میں صدام حسین کی ڈکٹیٹر شپ کے عبرت ناک خاتمہ کے بعد یہ رجحانات مزید شدت اور سرعت کے ساتھ سیاسی اور غیر سیاسی دونوں دائروں میں پھیلتے جارہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ عرب دنیا کے اندازِ فکر میں اس تبدیلی کا ایک سنگین پہلو بھی ہے۔ وہ یہ کہ اب اسلامی مدارس اور اسلامی تحریکوں کو مغربی دنیا کی طرح عرب ورلڈ میں بھی دہشت گردی کا سرچشمہ سمجھا جانے لگا ہے۔ اس بنا پر سعودی عرب سمیت تمام عرب ملکوں میں ’’اصلاحِ تعلیم‘‘ کی مہم حکومتی سطح پر چلائی جارہی ہے۔ پچھلے ایک برس میں عرب سربراہان کی تمام کانفرنسوں کے ایجنڈے میں یہ مسئلہ سر فہرست رہا ہے۔ دوسری طرف مسلم دنیا کی دینی تحریکیں اور دینی مدارس کے نمائندوں کے حق میں اب تعاون اور ہمدردی کا جذبہ باقی نہیں رہا۔ وہ خیراتی ادارے جو دینی مدارس اور تنظیموں کو ملینوں ڈالر کی سالانہ امداد دیا کرتے تھے وہ یا تو بند کر دیے گئے ہیں یا انہوں نے اپنی امداد روک دی ہے۔ اس سال مولانا انیس لقمان ندوی نے فریضہ حج ادا کیا ہے۔ اس سلسلہ میں انہوں نے اپنا تاثر مختصر اً یوں بیان کیا—— حج کا سفر، عدم تیقن کے ہجوم میں یقین کو دریافت کرنے کی کوشش کا نام ہے۔ مولانا موصوف کے اس جملہ کا مطلب غالباً یہ تھا کہ حج کی مختلف سرگرمیوں کے دوران انسان کو اپنے عجز کا تجربہ ہوتا ہے۔ عین اُسی وقت حج میں شعائر اللہ کے درمیان صبح و شام گذارتے ہوئے حاجی کو خدائے ذوالجلال کے وجود کا غیر معمولی احساس ہوتا ہے۔ گویا حج انسان کے لیے ایک طرف اپنے کمال عجز کا تجربہ ہے اور دوسری طرف خدا کے کمال قدرت کا مشاہدہ۔
مولانا انیس لقمان ندوی پچھلے آٹھ سال سے ابوظبی میں رہتے ہیں۔ ان کا تعلق اسلامیہ انگلش اسکول سے ہے۔ دبئی اور ابو ظبی کے درمیان تقریباً ۱۸۰ کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ میرے قیام دبئی کے دوران وہ دو بار ابوظمی سے ملاقات کے لیے آئے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2004 All issues