We are always Mad‘u friendly
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۶۷
ابوظبی کی ریاست امارات کی سب سے بڑی ریاست ہے۔ اس کا رقبہ ۶۷۳۵۰ مربع کلومیٹر ہے۔ اگرچہ اس کی بین الاقوامی سرحد ابھی تک متنازع ہے:
ابوظبی کا رقبہ عرب امارات کے کل رقبہ کا تین چوتھائی ہے۔ ابوظبی میں تیل کے کافی ذخائر پائے جاتے ہیں۔ اس بنا پر وہ اس علاقہ کی سب سے زیادہ دولت مند ریاست بن گئی ہے۔ انیسویں صدی میں ابوظبی کی ریاست کی نزاع ، مسقط اور عمان سے پیدا ہوئی۔ اسی کے ساتھ سعودی عرب سے بھی اس کی نزاع پیدا ہوئی۔ اس کا سبب زیادہ تر وہابی تحریک کی بڑھتی ہوئی طاقت تھی۔ اس کے نتیجہ میں سرحدی نزاعات پیدا ہوئے جو اب تک غیر حل شدہ ہیں۔ ان میں سے البریمی کے نخلستان کا معاملہ سب سے زیادہ سنگین ہے۔
ابوظبی نے برٹش اقتدار کے ساتھ (۱۸۲۰) میں اس معاہدہ پر دستخط کیے جس کو برٹش اسپانسر ڈ جنرل ٹریٹی آف پیس کہا جاتا ہے:
۱۸۹۲ میں ہونے والے معاہدہ کی دفعات کے تحت ابوظبی کے خارجی معاملات برٹش حکومت کے کنٹرول میں آگئے ۔ ابوظبی کے سابق حاکم شیخ زاید ابن خلیفہ (۱۹۰۸-۱۸۵۵) کے زمانہ میں ابوظبی اس علاقہ کی بڑی طاقت کی حیثیت رکھتا تھا۔ جب ۱۹۶۸ میں برطانیہ نے خلیج فارس سے واپسی کا فیصلہ کیا تو ابوظبی نے گفت و شنید کا سلسلہ شروع کیا۔ اس گفت و شنید کا مقصد یہ تھا کہ بحرین اور قطر کو ملا کر نوریاستوں کا ایک کنفیڈریشن قائم کیا جائے۔ مگر ان دو ریاستوں (قطر اور بحرین) نے علیحدگی کا فیصلہ کیا۔ چنانچہ بقیہ سات ریاستوں پر مشتمل فیڈریشن قائم ہوئی جس کو متحدہ عرب امارات کہا جاتا ہے۔ ابوظبی کا شہر ۱۹۷۱-۱۹۷۶ میں اس ریاست کی راجدھانی بنایا گیا۔
ابوظبی کی اقتصادیات کا انحصار تقریباً تمام تر تیل کی پیداوار پر ہے۔ یہاں پٹرول
‹ Previous page Next page › Contents of September 2004 All issues