Al-Risala · September 2004 · page 68

We are always Mad‘u friendly

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۶۸

کی دریافت ۱۹۵۸ میں ہوئی ۔ ابوظبی کے تیل کے ذخائر کے بارے میں اندازہ کیا گیا ہے کہ وہ 40,371,000,000 بیرل ہے ۔

ابوظبی کے حاکم شیخ زاید زیادہ تعلیم یافتہ نہیں ہیں ۔ مگر ان کو ایک مدبر حکمران مانا جاتا ہے ۔ وہ اپنی تقریروں میں اس طرح کے الفاظ بولتے ہیں :

واجبنا أن نعمل المستحيل (ہمارا فرض ہے کہ ہم ناممکن کے لیے عمل کریں )

اس قسم کے الفاظ سے ان مطلب یہ ہوتا ہے کہ ابوظبی میں انقلابی انداز میں تعمیری کام کریں۔ مثلاً انھوں نے اس نظریہ کے تحت ابوظبی کے صحراؤں کو زرخیز بنا دیا ہے اور ایسے علاقوں میں کھجور کے شاندار باغات اگائے ہیں جہاں اس سے پہلے کچھ نہیں تھا۔ شیخ زاید کی زندگی کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ ابوظبی میں آزادی خیال کی وہ بالکل اجازت نہیں دیتے ۔ مثلاً ابوظبی کا ایک دولت مند باشندہ تھا جس نے اپنے ایک خطبہ میں امریکا کو برا کہہ دیا۔ اس کے بعد اس کو فوراً ہی ابوظبی سے ڈی پورٹ کر دیا گیا۔ اس کو یہ اجازت بھی نہیں ملی کہ وہ اپنی دولت کو اپنے ساتھ باہر لے جائے ۔ ۷ مئی کو جمعہ کا دن تھا۔ صبح کی چائے کے بعد ہم لوگ حسب معمول ہوٹل کے کمرہ میں بیٹھ گئے۔ دوپہر تک مذاکرہ کے روپ میں ہماری مجلس جاری رہی۔ اس مجلس میں زیادہ تر خواتین تھیں جو عرب رواج کے مطابق مکمل طور پر سیاہ برقع میں ملبوس تھیں ۔ اس برقع میں صرف آنکھ کھلی رہتی ہے اور بقیہ پورا جسم بشمول چہرہ ڈھکا رہتا ہے ۔ یہ سب تعلیم یافتہ خواتین تھیں ۔ ان میں سے بعض نے ٹیپ ریکارڈر کے ذریعہ میری باتوں کو ریکارڈ کیا۔ بعض خواتین قلم کا کاغذ کے ذریعہ اس کو لکھتی رہیں ۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ جو تحریکیں احیاء اسلام کا کام کر رہی ہیں ان میں سے کوئی بھی زیادہ نتیجہ خیز ثابت نہیں ہو رہی ہیں ۔ ان میں سے ہر تحریک کا مشترک اصول ہے : نوا را تلخ تر میزن چو ذوق نغمہ کم یابی حودی را تیز تر می خواں کہ محمل را گراں بینی اس کے مطابق، ہر رہنما نے یہ کیا کہ ملت جہاں کھڑی ہوئی تھی وہیں جوش دلا کر وہ اس کو دوڑانے کی کوشش کرنے لگا۔ حالاں کہ اصل کام یہ تھا کہ زوال کے حقیقی اسباب کا جائزہ لیا جاتا۔ زمانہ

‹ Previous page Next page › Contents of September 2004 All issues

Printed page