Al-Risala · September 2004 · page 69

We are always Mad‘u friendly

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۶۹

کی تبدیلیوں کو سمجھا جاتا۔ حالات کے لحاظ سے پورے معاملے کی نئی منصوبہ بندی کی جاتی اور پھر الٰاقدم فالاً قدم کے اصول پرملی سفر کا آغاز کیا جاتا۔ مگر کسی نے بھی اس طریقہ پر عمل نہیں کیا۔ اسباب کی اس دنیا میں اس قِسم کا عمل اتنا ہی بے معنی ہے جتنا کہ بے عملی۔

گلف نیوز (Gulf News) دبئی کا انگریزی روزنامہ ہے۔ ۷ مئی کو اس کے ڈپٹی ایڈیٹر مسٹر محمود صابری نے ہوٹل میں مجھ سے ملاقات کی اور اپنے اخبار کے لئے تفصیلی انٹرویو ریکارڈ کیا۔ ان کے سوالات کا تعلق اسلام اور مسلمانانِ ہند سے تھا۔ ایک سوال کے جواب میں میں نے کہا کہ اسلام کی متشددانہ تصویر میڈیا کی تصویر ہے۔ میڈیا کا معاملہ یہ ہے کہ وہ ایک انڈسٹری ہے۔ اس کو نیوز فروخت (sell) کرنا ہے۔ چوں کہ عوام ہاٹ نیوز کو پسند کرتے ہیں اس لئے میڈیا اپنا بزنس چلانے کے لئے سلیکٹیو بیس (selective basis) پر خبریں لیتا ہے، یعنی سافٹ نیوز کو چھوڑ دینا اور ہاٹ نیوز کو نمایاں کرنا۔ میں نے کہا کہ ہم میڈیا کے اس مزاج کو بدل نہیں سکتے۔ ہم صرف یہ کر سکتے ہیں کہ مسلمانوں کو کہیں کہ یا تو ہاٹ نیوز وجود میں لانے سے پرہیز کریں یا ایسا کریں کہ مسلمانوں کے ذمہ دار لوگ ایسے مسلمانوں سے برأت کا اظہار کریں جو ہاٹ نیوز پیدا کرنے میں لگے ہوئے ہیں۔ وہ اعلان کریں کہ یہ اسلام کی تعلیم کے خلاف ہے۔ اس طرح کم از کم یہ ہوگا کہ اسلام کی اصل تصویر بگڑنے نہیں پائے گی۔ اس کے بعد لوگ اسی نیوز کو مسلمانوں کے ساتھ منسوب کریں گے نہ کہ دین اسلام کے ساتھ۔ یہ انٹرویو گلف نیوز کے شمارہ ۹ مئی ۲۰۰۴ میں شائع ہوا ہے (صفحہ ۷)

آج جمعہ کا دن تھا۔ جمعہ کی نماز ہوٹل کے قریب ایک مسجد میں پڑھی۔ نماز میں زیادہ تر غیر عرب لوگ نظر آئے۔ مجھے بتایا گیا کہ دبئی میں تقریباً ۸۰ فی صد غیر عرب ہیں۔ ایک بات یہ دکھائی دی کہ تمام لوگ صف میں شامل ہو کر بیٹھ گئے۔ جب تکبیر ہوئی اور جماعت کھڑی ہوئی تو کسی شور کے بغیر صفیں قائم ہوگئیں۔ اپنی جگہ پر کھڑے ہو جانا ہی صف بندی کے لئے کافی تھا۔ دن میں لوگ حسب معمول میرے کمرے میں آتے رہے اور مجلس کی صورت میں بات چیت جاری رہی۔

ایک خاتون جو کھانے وغیرہ کے انتظام میں رہتی تھیں اور ان کو میری بات سننے کا موقع

‹ Previous page Next page › Contents of September 2004 All issues

Printed page