We are always Mad‘u friendly
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۷۱
اس موضوع کی مزید وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ تدوین حدیث کے بعد حدیث کی بہت سی شرحیں عربی زبان میں لکھی گئی ہیں۔ ان سب سے زیادہ جامع شرح ابن حجر کی فتح الباری کو سمجھا جاتا ہے۔ مگر یہ شرحیں زیادہ تر حدیث کے فنی پہلوؤں کی وضاحت کے طور پر لکھی گئی ہیں۔ ان شرحوں میں حدیث کی معنوی حکمت بیان نہیں ہوسکی ہے۔
پھر میں نے کہا کہ یہ کوئی کمی کی بات نہیں۔ اصل یہ ہے کہ حدیث کی خدمت کے دو دور ہیں۔ پہلے دور میں ضرورت تھی کہ حدیث کے فنی پہلوؤں کی وضاحت کر کے اس کے استناد کو ثابت شدہ بنایا جائے ۔ تا کہ بعد کی نسلیں کسی شبہ کے بغیر یہ یقین کر سکیں کہ یہ حدیثیں غیر مشتبہ طور پر خدا کے رسول کا کلام ہیں۔ یہ ابتدائی کام اللہ کے فضل سے قدیم شرحوں کے ذریعہ مکمل طور پر انجام پا چکا ہے۔ اب ضرورت ہے کہ حدیث کی حکمت اور اس کی گہری معنویت کو واضح کیا جائے۔ تا کہ موجودہ زمانہ کا انسان پیغمبر کی رہنمائی کو اس کی گہری معنویت کے ساتھ سمجھے اور اس کو اپنی زندگی میں اپنا سکے۔ میں یہی کام کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔ میری اس بات کو سن کر عرب حضرات کافی متاثر ہوئے۔ انہوں نے فوراً پیش کش کی کہ کتاب خواہ کتنی ہی جلدوں پر مشتمل ہو، اس کی طباعت کا پورا خرچ ہمارے ذمہ ہوگا۔ آپ جیسے ہی ہم کو یہ مطلع کریں گے کہ کتاب تیار ہوگئی، ہم فوراً ہی اُس کی طباعت کی مطلوب رقم آپ کے ادارہ کو فراہم کر دیں گے۔
یہاں کے انگریزی اخبار گلف نیوز (۸ مئی ۲۰۰۴ کا شمارہ دیکھا۔ اس کی پہلی خبر یہ تھی کہ کراچی میں جمعہ (۷ مئی) کو ایک مسجد میں بم پھٹا۔ یہ بم اس وقت پھٹا جب کہ لوگ نماز پڑھنے جا رہے تھے۔ یہ خود کش بمباری (suicide bombing) کا ایک واقعہ تھا۔ ایک صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ اسلام میں خود کش بمباری جائز ہے یا ناجائز۔ میں نے کہا کہ اسلام میں خودکشی ہر حال میں ناجائز ہے۔ کوئی بھی عذر خود کش بمباری کو جائز ثابت نہیں کر سکتا۔ جو لوگ خود کش بمباری کرتے ہیں اور جو لوگ اس کے جائز ہونے کا فتویٰ دیتے ہیں، دونوں ہی سے خدا کے یہاں سخت باز پرس ہوگی۔ ۸ مئی ۲۰۰۴ کی دوپہر کو عجمان کی جامعہ پرستون (Preston University) میں لکچر تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2004 All issues