We are always Mad‘u friendly
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۴، صفحہ ۷۲
اس کا موضوع تھا: اسلام اینڈ پیس۔ میں نے تقریر میں بتایا اسلام امن کا مذہب ہے، نہ کہ تشدد کا مذہب۔ میں نے کہا کہ کہ موجودہ زمانہ کے مسلمان ضرور ایسا کر رہے ہیں کہ وہ اسلام کے نام پرمتشددانہ جنگ چھیڑتے ہیں۔ مگر اسلام میں اس قسم کی جنگ کا کوئی جواز نہیں۔ اسلام میں جنگ کی بہت سی شرطیں ہیں۔ ان میں سے ایک شرط یہ ہے کہ ایک قائم شدہ مسلم حکومت ہی جنگ کا اعلان کر سکتی ہے۔ غیر حکومتی تنظیموں کو بطور خود ہرگز جنگ کی اجازت نہیں۔ مزید یہ کہ اسلام میں جنگ صرف دفاع کے لیے ہے۔ گوریلا وار، پراکسی وار، ایگریسیو وار، بلا اعلان وار، سب کے سب اسلام میں ناجائز ہیں۔ یہ پورا پروگرام انگریزی زبان میں تھا۔
یہاں ڈاکٹر وسیم احمد سے ملاقات ہوئی۔ وہ اس یونیورسٹی میں عربک اور اسلامک اسٹڈیز کے شعبہ کے ہیڈ ہیں۔ وہ اردو کے علاوہ عربی اور انگریزی دونوں زبانوں میں بخوبی مہارت رکھتے ہیں۔ وہ اس بات کی ایک مثال ہیں کہ انسان محنت سے بڑی بڑی کامیابی حاصل کر سکتا ہے۔ یونیورسٹی میں لکچر کے بعد حاضرین کی طرف سے مختلف سوالات کیے گئے۔ یہ تمام سوالات تحریری صورت میں تھے۔ ان سوالات کا میں نے مختصر جواب دیا۔ ایک سوال یہ تھا کہ وہ لوگ جو اسلامی جہاد کے نام پر خودکش بمباری کرتے ہیں، وہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ مر کر جنت میں جائیں گے۔ کیا یہ صحیح ہے:
Those who do suicidal bombing in the name of Islamic Jihad, believe they will go to heaven, is it true? (Shakeel Ahmad Khan)
میں نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ آج کل مسلمان جو خودکش بمباری کر رہے ہیں وہ جہاد نہیں۔ وہ بلاشبہ اسلام میں حرام ہے۔ اسلامی تعلیم کے مطابق، کسی بھی حال میں اور کسی بھی عذر کی بنا پر خودکشی جائز نہیں۔ میں نے کہا کہ کچھ عرب علماء نے خودکش بمباری کو استشہاد (طلب شہادت) کا عمل بتایا ہے اور اس کو جائز قرار دیا ہے۔ مگر یہ فتویٰ بلاشبہ ایک بے بنیاد فتویٰ ہے۔ عمل شہادت تو درکنار وہ جائز موت بھی نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2004 All issues