We are always Mad‘u friendly
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۴
ایک عرب عالم ہیں جنھوں نے خودکش بمباری کو جائز قرار دیا ہے۔ وہ یورپ کے علاقہ اسکینڈی نیویا (Scandinavia) میں گئے۔ وہاں ایسا ہے کہ کبھی رات چھوٹی ہوتی ہے اور دن لمبا اور کبھی دن چھوٹا ہوتا ہے اور رات لمبی۔ کچھ مسلمانوں نے عرب عالم سے پوچھا کہ یہاں نماز کے اوقات کا نظام کس طرح بنایا جائے ۔ عرب عالم نے وہاں تیسیر الفتویٰ (فتویٰ میں آسانی) کے اصول پر اس سوال کا جواب دیا۔ مگر یہی عالم جہاد کے معاملہ میں تعسیر الفتویٰ (فتویٰ میں سختی) کے اصول پر سوال کا جواب دیتے ہیں اور اس کی حمایت میں پر جوش تقریر کرتے ہیں۔ موجودہ زمانہ کے علماء کا یہ تضاد بھی کیسا عجیب ہے۔
اس قسم کا فتویٰ کسی صحت مند ذہن کی علامت نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کا فتویٰ ہمیشہ اپنی تخریبی سیاست کے حق میں اسلامی جواز فراہم کرنے کے لیے ہوتا ہے۔ وہ اسلام کی تعلیم کو بیان کرنے کے لیے نہیں ہوتا۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ منفی ذہنیت کی پیداوار ہے، نہ کہ مثبت ذہنیت کی پیداوار۔ جامعہ پرستون عجمان کے علاقہ میں واقع ہے۔ عجمان کی ریاست عرب امارات کی سات ریاستوں میں سب سے چھوٹی ریاست ہے۔ عجمان شہر ریاست کا واحد آباد حصہ ہے۔ عجمان نے علاقہ کی دوسری ریاستوں کی طرح برٹش اقتدار کے ساتھ ۱۸۹۲ میں ایک معاہدہ پر دستخط کیے ۔ اس معاہدہ کے مطابق، عجمان کی خارجہ پالیسی مکمل طور پر برٹش کنٹرول میں چلی گئی۔ ۱۹۶۸ میں برٹش حکومت نے اعلان کیا کہ وہ خلیج فارس میں اپنی موجودگی ختم کر دے گی ۔ اس کے بعد برٹش حکومت سے یہ گفتگو شروع ہوئی کہ نو ریاستوں کو ملا کر ایک فیڈریشن بنایا جائے۔ مگر دو ریاستیں اس فیڈریشن میں شریک نہیں ہوئیں اور وہ صرف سات ریاستوں کے مجموعہ کی صورت میں وجود میں آ سکا۔ ۸ مئی کو دوپہر کے کھانے کا انتظام مسٹر شکیل احمد خان انجینئر کے گھر پر تھا۔ یہاں مسٹر مسعود احمد سے ملاقات ہوئی۔ وہ ایک کامیاب تاجر ہیں۔ میں نے پوچھا کہ اپنی زندگی کا کوئی تجربہ بتائیے۔ انہوں نے کہا کہ پیسہ آدمی کو قسمت سے ملتا ہے مگر پیسہ کو خرچ کرنے کے لئے عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ۹۹ فی صد لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح پیسہ تو کما لیتے ہیں مگر وہ اپنے
‹ Previous page Next page › Contents of September 2004 All issues