Al-Risala · September 2004 · page

We are always Mad‘u friendly

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۴

پیسہ کو بے جا انداز میں خرچ کرتے رہتے ہیں، یہاں تک کہ مر کر دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ اس مجلس میں ایک اور صاحب (مسٹر شاہد) بھی موجود تھے۔ وہ یہاں ایک کامیاب بزنس کر رہے ہیں۔ ان سے میں نے کہا کہ پیسہ ہر ایک کے لیے آخر کار ایک مصیبت ہے۔ کم پیسہ اگر مسئلہ ہے تو زیادہ پیسہ بھی ایک مسئلہ ہے۔ چنانچہ اکثر لوگ جو زیادہ دولت کماتے ہیں وہ آخر کار مایوسی کے شکار ہو جاتے ہیں۔ میں نے کہا کہ اس مسئلہ کا حل یہ ہے کہ آدمی تنظیم مال کے فن (art of money management) کو جانے۔

جناب عاطف سید انور علی کاظم (۳۸ سال) سے ۹ مئی کی صبح کو ملاقات ہوئی۔ انہوں نے اپنی زندگی کے کچھ انوکھے واقعات بتائے۔ اپنا ایک تجربہ بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میرا ملنا جلنا دہلی کے ایک مسیحی سے تھا۔ وہ کسی قدر اسلام کی طرف مائل تھا۔ پھر انھوں نے کہا کہ میں ایک عالم سے ملا اور ان سے کہا کہ آپ میرے ساتھ چل کر اس مسیحی سے ملیں اور اس کی تالیف قلب کے طور پر آپ کی طرف سے اسے ایک تحفہ پیش کیا جائے۔ اس عالم نے کہا کہ العلم يؤتى ولا يأتى (علم کے پاس جایا جاتا ہے علم خود نہیں آتا)

یہ قول در اصل سعید ابن مسیّب تابعی کا ہے۔ خلیفہ ہارون رشید نے چاہا تھا کہ اپنے بیٹے کی تعلیم کے لئے سعید بن مسیّب اس کے محل میں آئیں ۔ مگر سعید بن مسیب نے خود محل میں جانا پسند نہ کیا اور کہا کہ آپ کے شہزادوں کو خود میرے پاس آنا چاہئے۔ کیوں کہ طالب کو چاہئے کہ وہ خود چل کر علم کے پاس جائے نہ کہ علم اس کے پاس آئے۔

عاطف صاحب نے اس جملہ کی تشریح کرتے ہوئے کہا کہ یہ اصول مسلمانوں کے لئے ہے۔ یہ اصول غیر مسلموں کے لیے نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ غیر مسلم تک علم پہنچانا دراصل دعوت کا عمل ہے اور دعوت ہمارا اپنا فریضہ ہے۔ جب ہم اسلام کا علم کسی غیر مسلم تک پہنچاتے ہیں تو ہم خود اپنا فریضہ انجام دیتے ہیں اور فریضہ ادا کرنا خود اس کا کام ہے جس پر وہ چیز فرض ہو رہی ہو۔ یہ ایسا ہی ہے جیسے مجھے نماز کا فرض ادا کرنا ہے تو مجھے خود مسجد جانا پڑے گا۔ مسجد میرے پاس اٹھ کر نہیں چلی آئے گی۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2004 All issues

Printed page