Al-Risala · September 2004 · page

We are always Mad‘u friendly

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۴

عاطف صاحب نے اس کے بعد تبلیغی جماعت کے بعض افراد سے رابطہ کیا اور مذکورہ مسیحی کے بارے میں انہیں بتایا۔ وہ لوگ فوراً وہاں جانے کے لیے تیار ہو گئے کیوں کہ ان کے اندر پہلے ہی سے یہ مزاج تھا کہ دین کو چل کر پہنچانا چاہیے۔ چنانچہ تبلیغ کے 3 آدمی وہاں گئے۔ انھوں نے کچھ تحفہ (عطر، دعا کی کتاب اور کیسٹ) اس مسیحی کو پیش کیا اور اس سے نرمی اور محبت کے ساتھ بات کی اور اس کو دین ابتدائی پیغام پہنچایا۔

عاطف صاحب نے مزید بتایا کہ تبلیغی لوگوں کا طریقہ یہ ہے کہ وہ ایسے موقع پر کم از کم تین آدمی کی جماعت بناتے ہیں۔ ان میں سے ایک امیر ہوتا ہے اور دوسرا متکلم اور تیسرا ذاکر۔ امیر گویا اس جماعت کا قائد ہوتا ہے۔ متکلم کا کام یہ ہے کہ وہ ضرورت کے وقت بولے اور وضاحت کرے۔ ذاکر کا کام یہ ہے کہ وہ دل ہی دل میں اللہ کو یاد کرتا رہے اور دعا کرتا رہے کہ یہ مشن کا کامیاب ہو۔ یہ سن کر میں نے کہا کہ یہ طریقہ نہایت فطری ہے۔ وہ اسلام کی اسپرٹ کے عین مطابق ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مسلمانوں کی ہر مجلس میں یہی طریقہ اختیار کیا جانا چاہیے۔ اس طریقہ کو مسلم کلچر کا ایک جزء بن جانا چاہیے۔

عاطف صاحب نے ایک اور بات بتائی۔ انھوں نے کہا کہ حق کے داعی کے اندر تین صفت ہونی چاہیے۔ یہ تین صفتیں انھوں نے قرآن کی ایک آیت سے اخذ کی ہیں۔ وہ آیت یہ ہے: و من احسن قولا ممن دعا الى الله وعمل صالحاً وقال اننی من المسلمین ۔ (فصلت ۳۳) انھوں نے کہا کہ داعی کے اندر پہلی مطلوب صفت یہ ہے کہ دعوتی کام پر مکمل یقین ہو، اور دوسرا یہ کہ جو چیز داعی دوسروں کو بتا رہا ہے وہ خود بھی اس پر عمل کرنے والا ہو، تیسرا یہ کہ آدمی کے اندر تواضع (humbleness) کی صفت پائی جائے۔ ایک سچے داعی کے اندر یہ تین صفتیں ہونی چاہئیں۔ میں نے کہا کہ آپ کا یہ خیال بالکل درست ہے۔ یہی مزاج پوری امت میں ہونا چاہیے۔ ۹ مئی کی صبح ہوئی تو فجر کی نماز کے بعد دوبارہ مجلس کا سلسلہ شروع ہوا۔ میرے کمرے میں عورتیں اور مرد اکٹھا ہو گئے۔ ان لوگوں سے دیر تک دینی موضوعات پر باتیں ہوتی رہیں۔ ایک مسئلہ کی

‹ Previous page Next page › Contents of September 2004 All issues

Printed page