Al-Risala · September 2004 · page

We are always Mad‘u friendly

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۴

وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ جنت کی قیمت دو چیزیں ہیں ـــ عمل یا اعتراف بے عملی۔ یعنی یا تو آدمی عمل صالح کا ذخیرہ لے کر خدا کے یہاں پہنچے یا ایسا ہو کہ عمل صالح کے ساتھ اس سے کچھ خطائیں بھی سرزد ہوئیں، مگر ان خطاؤں پر وہ بے حد شرمندہ تھا اور پوری طرح اپنی غلطی کا اعتراف کیا تھا۔ میں نے مزید کہا کہ میرے مطالعہ کے مطابق ، شخصیت کی تعمیر میں باعمل ہونے کا احساس اتنا زیادہ مددگار نہیں ہے جتنا کہ اپنی بے عملی کا احساس ۔ صحابہ کرام کے بعد اسلام کی تاریخ میں سب سے زیادہ ممتاز دینی شخصیت عمر بن عبدالعزیز کی ہے۔ جیسا کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے ، ان کی یہ شخصیت تمام تر احساس خطا سے بنی تھی ، نہ کہ احساس عمل کے تحت۔

اصل یہ ہے کہ کسی شخصیت میں انقلابی تبدیلی لانے کے لیے ضروری ہے کہ اس کو کوئی زبردست جھٹکا لگا ہو۔ احساس خطا آدمی کو اسی قسم کا جھٹکا پہنچاتا ہے ۔ وہ اس کو اندر سے بے چین کر دیتا ہے ۔ یہی بے چینی انسانی شخصیت میں کسی بڑی تبدیلی کا اصل محرک ہے۔ مگر خطا کا احساس کوئی سادہ چیز نہیں ۔ صدمہ ہر ایک کو پہنچتا ہے ۔ مگر ایسے لوگ بہت کم ہیں جو صدمہ کے بعد تڑپ اٹھیں اور اپنی اصلاح کے لیے بے چین ہو جائیں۔

ایک مجلس میں جنت کے بارے میں گفتگو ہوئی ۔ اس مجلس میں محمد احمد دادا بھائی بھی شریک تھے۔ انھوں نے کہا کہ کیا ایسی جنت میں آدمی اکتا (bore) نہیں جائے گا جہاں ہر وقت شہد کھانا اور دودھ پینا ہو۔ انھوں نے جنت کے بارے میں اسی طرح کے غیر سنجیدہ ریمارک دیے۔ وقتی طور پر مجھ کو ان کی بات ناپسند ہوئی ۔ مگر میں چپ رہا۔ میں اندر ہی اندر دعا کرنے لگا اور سوچنے لگا کہ ان کو کس طرح مطمئن کرنا چاہئے ۔ آخر کار ایک بات سمجھ میں آئی ۔ میں نے ان سے کہا کہ آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ جنت کیا ہے تو قرآن میں اس کا جواب موجود ہے۔ قرآن میں ایک سچی خدا پرست خاتون کی دعا ان الفاظ میں نقل کی گئی ہے: رَبِّ ابْنِ لِی عِنْدَكَ بَیْتًا فِي الْجَنَّةِ (التحریم ۱۱) اس دعا سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت خدا کے پڑوس میں رہنے کا نام ہے۔ یہ سن کر اچانک ان کا موڈ بدل گیا۔ انھوں نے کہا کہ یہ دعا مجھے لکھ کر دیجئے۔ چنانچہ میرے ساتھی مولانا انیس لقمان ندوی

‹ Previous page Next page › Contents of September 2004 All issues

Printed page