ڈاکٹر : أنا طبيب أطفال
الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۴
کئی مردوں اور عورتوں نے آٹو گراف کے لیے کہا۔ میں نے ہر ایک کی نوٹ بک پر کچھ نصیحت آمیز کلمات لکھ دیے۔ قدسیہ سید کی نوٹ بک پر میں نے یہ الفاظ لکھے: خدا سے محبت کی منزل انسان سے محبت کے راستہ سے گزرتی ہے۔ اس جملہ کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آج کل کے مسلمان انسان سے نفرت کرتے ہیں اور بطور خود یہ سمجھتے ہیں کہ وہ خدا اور اُس کی جنت کی طرف تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ان مسلمانوں پر سعدی شیرازی کا یہ شعر صادق آتا ہے: تُرسَم نُرسی به کعبه اے اعرابی کیں ره که تو می روی به ترکستان است ایک مجلس میں میں نے کہا کہ لوگ عام طور پر غلطی کا اعتراف کرنے سے گھبراتے ہیں۔ حتیٰ کہ اگر وہ دل سے مان لیں کہ اُن سے غلطی ہوگئی تب بھی وہ زبان سے یہ نہیں کہہ پاتے کہ میں غلطی پر تھا (I was wrong)۔ غلطی کا اعتراف وہی معتبر ہے جو کھلے طور پر زبان سے ہو۔ دل سے ماننا اور منھ سے نہ بولنا، ایک قسم کی منافقت ہے اور منافقت کا کوئی فائدہ نہ دنیا میں کسی کو ملنے والا ہے اور نہ آخرت میں۔
مزید یہ کہ غلطی کا اعتراف کوئی سادہ بات نہیں۔ وہ خود اپنے شخصی ارتقاء کے لیے بے حد اہم ہے۔ اس دنیا میں کسی مرد یا عورت کے لیے سب سے بڑی چیز اپنی شخصیت کا ارتقاء ہے، اور شخصیت کا ارتقاء سب سے زیادہ جس چیز کے ذریعہ ہوتا ہے وہ اپنی غلطی کا سچا اعتراف کرنا ہے۔ ایک باریش بزرگ سے ملاقات ہوئی۔ انہوں نے ہندوستان کے ایک مدرسہ میں تعلیم پائی ہے۔ اور اب وہ کسی سروس کے تحت عرب امارات میں رہتے ہیں۔ ملاقات کے وقت انھوں نے بتایا کہ جب میں ہندوستان میں تھا تو میں آپ کا ماہنامہ الرسالہ پڑھتا تھا۔ پھر انہوں نے کہا کہ کیا الرسالہ ابھی نکل رہا ہے۔ ان کے اس سوال پر مجھے بہت تکلیف ہوئی۔ میں نے اپنا غصہ ضبط کرتے ہوئے کہا کہ اگر میں آپ سے پوچھوں کہ کیا آپ کے فرزند ابھی تک زندہ ہیں تو آپ کا جواب کیا ہو گا۔ اس سوال کا جو جواب آپ کے پاس ہو، اُسی کو آپ میری طرف سے اپنے سوال کا جواب سمجھ لیجیے۔
‹ Previous page Next page › Contents of September 2004 All issues